راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو مودی ہاؤس مارچ کے دوران گرفتار کرلیا گیا
بھارت میں کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پارٹی کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی واڈرا کو منگل کے روز مبینہ پرچہ لیک اسکینڈل کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کے دوران دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب راہول گاندھی کو گھیر لیا۔ ویڈیوز کے مطابق راہول گاندھی نے حراست میں لیے جانے کی مزاحمت کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں قابو میں کرکے پولیس بس میں منتقل کر دیا۔ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ راہول گاندھی کی ناک سے خون بہہ رہا ہے۔
راہول گاندھی کی حراست کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں، جبکہ کانگریس نے حکومت پر جمہوری احتجاج کو دبانے کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو لوک کلیان مارگ کی جانب بڑھنے سے روک دیا، جس کے دوران کانگریس کے متعدد اراکین پارلیمنٹ اور دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعض رہنماؤں کو احتجاجی مقام سے ہٹانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔حراست میں لیے جانے سے کچھ دیر قبل راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں ملک بھر کے شہریوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ NEET-UG 2026 کے مبینہ پرچہ لیک کا معاملہ بھارت کے نوجوانوں اور طلبہ پر حملہ ہے۔
راہول گاندھی نے اپنے بیان میں کہا، "طلبہ پر حملہ ہر بھارتی خاندان پر حملہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمجھتے ہیں کہ وہ جواب دیے اور ذمہ داری قبول کیے بغیر بچ نکلیں گے، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ میں ہر محب وطن بھارتی سے اپیل کرتا ہوں جو طلبہ کے لیے انصاف چاہتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنے میں شامل ہو۔ بھارت کے طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔