تازہ ترین

شام چوراسی گھرانے کے نامورکلاسیکل گائیک اُستادسلامت علی خاں کودنیاسے گئے25برس بیت چکے ہیں لیکن کلاسیکل موسیقی سننے والے انہیں بھلا نہ سکیں گے۔
 اُستادسلامت علی خاں برصغیرکے واحد گائیک تھے جنہیں مسلسل دس سال تک آل انڈیا میوزک کانفرنس کلکتہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔برطانیہ، امریکہ،جرمنی،ہندوستان،افغانستان،سنگاپور،ہالینڈ،اسکاٹ لینڈ،سوئٹزرلینڈ اوراٹلی میں بھی فن کا مظاہرہ کرنے کااعزازحاصل تھا،ان  کے بارے میں بہت سے کلاسیکل گویے یہ کہتے تھے کہ تان سین بھی اسی طرح گاتا ہوگا۔


12دسمبر1934ء کوہوشیارپورکے علاقے شام چوراسی میں پیدا ہونیوالے استادسلامت علی خاں نے موسیقی کی تربیت والداستاد ولایت علی خاں سے حاصل کی جس کے بعد بھائی استاد نزاکت علی خاں کے ساتھ ان کی جوڑی بہت مقبول ہوئی ،دونوں بھائی خیال گانے میں مہارت رکھتے تھے،یہ گھرانہ جگل بندی گانے میں بھی شہرت رکھتا تھا۔شام چوراسی گھرانہ دھرپد گائیکی کے لئے مشہور تھا لیکن استاد سلامت علی خاں نے اپنے ایک بزرگ میاں کریم بخش مجذوب سے خیال گائیکی میں بھی کمال حاصل کیا،انہوں نے کافی اورٹھمری کونئی جہتوں کے ساتھ پیش کیا،خواجہ غلام فرید کی ملتانی کافی کو نیا کلاسیکی انگ دینے کااعزاز بھی حاصل ہوا،وہ کلاسیکل گائیکی کے علاوہ اعلیٰ درجے کی دھنیں بھی تخلیق کیاکرتے تھے،انہوںنے جنوبی ایشیاکی کلاسیکی موسیقی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

 
تقسیم ہند کے بعد یہ خاندان پہلے ملتان آیاپھرلاہور میں مقیم ہوگیا،1953ء میں استاد سلامت علی خاں نزاکت علی خاںکے ہمراہ بھارت گئے اس دوران جواہر لعل نہرو کے سامنے بھی گائیکی کامظاہرہ کیا تونہرو ان کے گرویدہ ہو گئے،نامور گلوکارہ لتا منگیشکر بھی اُستاد سلامت علی خاں کی زبردست مداح تھیں۔


 1984ء میں استاد نزاکت علی کاانتقال ہوگیالیکن سلامت علی خاں اپنے بیٹوں شرافت علی خاں اورشفقت علی خاں کیساتھ گاتے رہے اورشام چوراسی گھرانے کی روایت کو آگے بڑھایا،حکومت پاکستان نے انہیں1989ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا،اس کے علاوہ انہیںپنج پٹیہ گلوکار کے لقب سے بھی نوازا گیا تھا،شام چوراسی میوزک سرکل کے زیراہتمام ان کی برسی کی مناسبت سے ہرسال کلاسیکل موسیقی فیسٹیول بنام’’یادِسلامت‘‘منعقدکیاجاتاہے جس میںکلاسیکل گلوکاروںکے ساتھ ساتھ زندہ دلانِ لاہورکی ایک بڑی تعداد بھی شرکت کرتی ہے۔

Leave A Comment

Advertisement