تازہ ترین

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یو کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ لبنان،ایران،امریکا،لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔  ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔

 

Leave A Comment

Advertisement