IAEAکے معائنہ کارکب جوہری تنصیبات جانچنے ایران جائینگے؟ ممکنہ تاریخ آگئی
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے ’’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘‘ کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران امریکا امن معاہدے کے تحت ہمارے معائنہ کار جلد ایران کی جوہری تنصیبات کو جانچنے کے لیے دورہ کریں گے۔ ایران میں معائنوں کا عمل ضرور ہوگا اور ادارہ اس حوالے سے تاریخوں، طریقہ کار اور مقامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیئم کو کم افزودگی والے یورینیئم میں تبدیل کرنے کا عمل آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات اور وہاں موجود جوہری مواد تک رسائی کا معاملہ صرف حتمی معاہدے کے دائرہ کار میں طے کیا جائے گا۔انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اس وقت ہوگا جب امریکا عملی طور پر تمام پابندیاں ختم کرنے کے اقدامات کرے گا۔ صرف میڈیا میں بیانات دے کر زمینی حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ایران آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی اور ایران نے امریکی حملوں کا نشانہ بننے والی حساس جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کی رسائی پر اتفاق نہیں کیا۔بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران مکمل طور پر بین الاقوامی معائنوں پر رضامند ہوچکا ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے امریکا اور ایران کے ان متضاد بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بیانات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں لیکن اصل اہمیت اس مفاہمتی یادداشت کی ہے جس پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں۔اس دستاویز میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ جوہری مواد، تنصیبات اور متعلقہ سرگرمیوں کی نگرانی آئی اے ای اے کرے گا اور تب ہی یہ عمل بہتر انداز میں انجام پائے گا۔ اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انٹرنیشنل اٹامل انرجی ایجنسی کے معائنہ کار کو ایران کا مکمل تعاون حاصل ہوگا چاہے یہ عمل چند دن بعد یا پھر ایک ہفتے بعد شروع کیا جائے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ادارے کے معائنہ کار حالیہ دنوں میں ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر کا دورہ کر چکے ہیں تاہم انھیں ان حساس جوہری تنصیبات تک ابھی تک رسائی نہیں دی گئی جنھیں گزشتہ سال امریکی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں یہ تعین کرنا ممکن نہیں کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار، نوعیت اور مقام کیا ہے یا آیا ایران نے یورینیئم کی افزودگی مکمل طور پر روک دی ہے یا نہیں۔جنگ سے قبل ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم موجود تھا جسے مزید افزودہ کیا جائے تو نظریاتی طور پر 10 ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔