تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان اتوار کے روز یعنی آج معاہدہ ہوگیا یا نہیں، اس حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کو معاہدہ ہوجائے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی معاہدے پر اتوار کو الیکٹرانک دستخط ہونے کی نوید سنائی تھی، قطری وفد کی تہران پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ذرائع نے معاہدے کے طے پانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم فریم دینے سے بھی گریز کیا۔ اسحاق ڈار کی دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کوئی پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم آج ہی اس مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہوں گے، اس بات کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ اتوار کو معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر ہم خود جا کر ایران سے وہ تمام جوہری مواد لے آئیں گے جو اس وقت گرینائٹ کے پہاڑوں کے نیچے دفن ہے۔ہم ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے اچھے مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ کام جلد اور آسانی سے پورا ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس اس کا متبادل راستہ بھی موجود ہے۔یہ معاہدہ سابق صدر اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے سے بالکل مختلف ہوگا اور نیوکلیر ہتھیاروں کے خلاف ایک پکی دیوار ثابت ہوگا کیونکہ اوباما کے معاہدے کے برعکس اس بار کسی بھی قسم کی رقم یا پیسے کا لین دین نہیں ہوگا۔ ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے اور ایرانی فورس پاسدارانِ انقلاب نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ان کا غیر معمولی اصرار قرار دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ چونکہ چودہ جون کو صدر ٹرمپ کی سالگرہ ہے، اس لیے وہ اس تاریخ پر معاہدے کا شور مچا کر اپنی ذاتی تشہیر کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہو رہے ہیں اور دستخط کرنے کی یہ جو تاریخیں دی جا رہی ہیں، یہ ہماری مذاکراتی ٹیم کے لیے ایک امتحان یا آزمائش کی طرح ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی یہ بتا چکا ہے کہ ابھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ امید بھی دلائی کہ دونوں فریقین اس وقت معاہدے کے بہت زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن دستخط کرنے کے لیے فی الحال ہمارا کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنیوا یا کسی اور ملک کے سفر کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا ہے، اس لیے اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط کے لیے ابھی سب کو انتظار کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اتوار کے روز کے لیے امریکی صدر کا جو سرکاری شیڈول یا دفتری مصروفیات کی لسٹ جاری کی گئی ہے، اس میں ایسی کسی بھی الیکٹرانک دستخط کی تقریب کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شیڈول میں آخری وقت پر بھی تقریب کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران پاکستان کی طرف سے بھی اس معاہدے کے حوالے سے بڑی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ بالکل تیار ہے۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے فون پر تفصیلی بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے یعنی الیکٹرانک دستخط ہونے جا رہے ہیں۔اس گفتگو میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو جائے گا، اور ساتھ ہی انہوں نے اس امن کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی دن رات کی محنت اور کوششوں کی دل کھول کر تعریف بھی کی۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اس معاہدے کے سلسلے میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان کوششوں کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اس امن معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا پورا امکان ہے اور پاکستان اس امن معاہدے کو پورا کرانے کے لیے بہت سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکٹرانک دستخط کی تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور جیسے ہی حتمی منظوری ملے گی، فوراً ہی امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے جس کے بعد اگلے ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے معاملات پر بات چیت ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کی اس مثبت سفارتی کوشش کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پورے امن عمل میں علاقے کے دیگر ممالک کی حمایت بہت اہم ثابت ہوئی ہے کیونکہ یہ مجوزہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور مستقبل میں پائیدار امن کی ایک مضبوط بنیاد بنے گا۔

Leave A Comment

Advertisement