ٹرمپ کا خودساختہ دعویٰ جھوٹ نکلا، ایران نے آج ہونے والے امن معاہدے کو مسترد کر دیا
ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر آج دستخط ہو جائیں گے۔پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی بھی قسم کے معاہدے پر دستخط کا کوئی امکان موجود نہیں۔امریکی صدر کی جانب سے دیے گئے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تقریب 14 جون کو رکھنے کا ذکر محض علامتی سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد ذاتی تشہیر اور میڈیا توجہ حاصل کرنا ہے۔تہران کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ آج طے پا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ایران اور پورے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مستقبل میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے اور امید ہے کہ یہ پورا عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہوگا۔
تاہم ایران کی تازہ تردید کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آ گیا ہے۔