لاہور : ایل پی جی مافیا بے قابو، شہری مہنگی گیس خریدنے پر مجبور
ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سرکاری نرخنامہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اور من مانی قیمتوں پر گیس فروخت کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ جہاں اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی فی کلو مقررہ قیمت 308 روپے رکھی گئی ہے، وہیں شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 560 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں سرکاری نرخ پر ایل پی جی دستیاب نہیں اور دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کر رہے ہیں۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ایل پی جی فروش روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 روپے فی کلو تک قیمت بڑھا دیتے ہیں، جس کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں وہ پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور اب مہنگی ایل پی جی نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے باعث ان کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ مسافر کرایوں میں اضافے کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت نے روزگار کو متاثر کر دیا ہے۔ گھروں میں قدرتی گیس کی عدم دستیابی کے باعث وہ مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
عوام نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
Leave A Comment