تازہ ترین

بنگلہ دیش کے وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس نے پاکستان کے اسٹار بلے باز محمد رضوان کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دونوں ٹیسٹ میچوں کے بعد روایتی مصافحے میں حصہ نہیں لیا، جو ان کے بقول غیر پیشہ ورانہ اور غیر مناسب طرزِ عمل تھا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت نمایاں ہوئی جب سلہٹ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران میدان میں دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔واقعہ پاکستان کی اننگز کے 72ویں اوور میں پیش آیا جب محمد رضوان نے سائٹ اسکرین کے قریب حرکت پر اعتراض اٹھایا۔ اس پر لٹن داس نے کھیل میں تاخیر پر سوال کیا، جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے درمیان مختصر بحث چھڑ گئی۔ بعد ازاں امپائر رچرڈ کیٹلبرو نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا۔

ایک بنگلہ دیشی میڈیا ادارے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لٹن داس نے کہا کہ محمد رضوان کے میچ کے بعد کے رویے نے انہیں مایوس کیا۔لٹن داس کے مطابق میدان میں مقابلے کے دوران اختلافات یا تلخ جملوں کا تبادلہ کھیل کا حصہ ہوتا ہے، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد تمام کھلاڑیوں کا ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا کھیل کی روایت اور احترام کی علامت ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کی کامیابی کے بعد محمد رضوان نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہیں کیا۔ لٹن داس نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کھلاڑی کتنا بڑا نام رکھتا ہے، جیت یا ہار کے بعد مخالف ٹیم کا احترام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر محمد رضوان کو ان سے ذاتی طور پر کوئی مسئلہ بھی تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق اس عمل سے ایسا تاثر ملا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کو وہ احترام نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق تھی۔

تاہم لٹن داس نے محمد رضوان کی کرکٹ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن میں بابر اعظم اور محمد رضوان ہی دو ایسے کھلاڑی تھے جن سے بنگلہ دیشی ٹیم کو سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ محمد رضوان کا بنگلہ دیش کے خلاف ریکارڈ انتہائی شاندار ہے اور اسی وجہ سے بنگلہ دیشی ٹیم نے پوری سیریز کے دوران ان کے خلاف خصوصی حکمت عملی اپنائی تھی۔لٹن داس نے مزید انکشاف کیا کہ گرمی کے شدید موسم میں وکٹ کیپنگ کرنا مشکل تھا اور محمد رضوان کی جانب سے ہر گیند کے درمیان زیادہ وقت لینے کی عادت بھی ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتی تھی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے میدان میں رضوان کے خلاف مختلف انداز اپنانے کا فیصلہ کیا۔

محمد رضوان کی جانب سے تاحال لٹن داس کے الزامات یا بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement