تازہ ترین

لاہور(پ ر)امریکی ایوانِ نمائندگان کے ایران جنگ کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے باوجود ٹرمپ کے عزائم میں تبدیلی آنے کا امکان نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے مابین مجوزہ مکمل عسکری اتحاد مستقبل میں ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا امریکی سفارت خانے میں تقریر کے دوران ٹرمپ کو ’’مَین آف پیس‘‘ قرار دینا غلامی کی شرم ناک انتہا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایران سے جنگ درحقیقت امریکہ کی نہیں بلکہ اسرائیل کی ہے اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے ٹرمپ کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے میدان میں اُتارا ہوا ہے۔ اسرائیل کو جنگ بندی اور خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے ٹرمپ اور اُس کے حامیوں کی جنگ کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی کے 4 اراکین نے بھی ٹرمپ سے بغاوت کا ثبوت دیا ہے اور میڈیا اِسے ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے آقا اسرائیل کے اہداف کو پورا کرنے سے کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ اِس کی واضح مثال ٹرمپ کی نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون پر جھڑپ بلکہ گالیوں کے تبادلہ کے باوجود اسرائیل کا غزہ، مغربی کنارے اور لبنان پر حملے جاری رکھنا اور ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کے ساتھ ایک ایسے دفاعی معاہدے کو امریکی کانگرس میں پیش کرنا ہے جس کے تحت امریکہ اپنے فوجیوں کو اسرائیل کی سرزمین پر تعینات کرے گا اور وہاں جنگی ساز و سامان، ٹیکنالوجی و جاسوسی ذرائع اور فوجی اڈے بھی قائم کرے گا۔گویا اسرائیل اور امریکہ یک قالب، یک جان بننے جارہے ہیں، جس کا واحد مقصد مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس اور دیگر مسلم ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے کو نشانہ بنانا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے ابلیسی منصوبے کے تناظر میں اگر یہ خطرناک ترین اتحاد قائم ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں وزیراعظم پاکستان کی طرف سے امریکی آزادی کے 250 برس مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران ٹرمپ کو ’’مَین آف پیس‘‘ قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر تنظیم نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے قیام سے حکومتِ پاکستان اکثر و بیشتر امریکہ کی ڈکٹیشن قبول کرتی رہی ہے لیکن اِس بیان نے شاید غلامی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا وزیراعظم پاکستان کو ٹرمپ کا دنیا میں فساد پھیلانا نظر نہیں آرہا؟ اُنہوں نے کہا کہ اِس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک فیصلہ کُن موڑ پر کھڑا ہے اور ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ پاکستان ہوگا جس کے لیے وہ بھارت کو تیار کر رہا ہے۔ لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان خوابِ غفلت سے جاگے اور طاغوتی قوتوں کے مذموم مقاصد کا صحیح ادراک کرتے ہوئے اُن سے نمٹنے کی پیش بندی کرے، جس کے لیے عسکری قوت کے ساتھ نظریاتی سطح پر پاکستان کو عدلِ اجتماعی کی بنیاد پر حقیقی اسلامی ریاست بنانا ناگزیر ہے۔

Leave A Comment

Advertisement