تازہ ترین

محترم قارئین ۔ مغلیہ دور کا انٹلجنس نظام کیسے چلتا تھا مغل سلطنت کا خفیہ نظام آج کے دور کی انٹیلیجنس ایجنسیوں جیسا ہی منظم تھا، فرق صرف ٹیکنالوجی کا تھا۔ وہ عام لوگوں کے بھیس میں کام کرتے تھے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ یہ لوگ کون تھے اور کیا کرتے تھے

واقعہ نویس: یہ سرکاری خبر رساں تھے۔ لاہور، ملتان، کشمیر، بنگال، گجرات جیسے ہر بڑے صوبے و شہر میں تعینات ہوتے تھے۔ ہر ہفتے 'اخبار' کے نام سے رپورٹ براہ راست بادشاہ کو بھیجتے۔ اس میں بازار کے حالات، فوج کی نقل و حرکت، گورنروں کے فیصلے اور عوامی مزاج سب کچھ لکھا ہوتا۔ یہ سلطنت کا پہلا روزانہ انٹیلیجنس بلیٹن تھا۔

خفیہ نویس، یہ اصل سیکرٹ ایجنٹس تھے۔ ان کی شناخت مکمل خفیہ رکھی جاتی تاکہ بغیر دباؤ کے سچ پر مبنی رپورٹ دے سکیں۔ یہ حساس اور خفیہ معلومات، سازشیں، اور افسروں کی بدعنوانی کی تفصیل بادشاہ تک پہنچاتے تھے۔ ہرکارے اور جاسوس، یہ فیلڈ میں کام کرتے تھے۔ گلی کوچوں سے دربار تک ہر جگہ موجود رہتے۔ تاجر، صوفی، کلرک یا مسافر بن کر معلومات اکٹھی کرتے۔ اکبر کے دور میں ہرکارے بانس کے اندر خط چھپا کر گرینڈ ٹرنک روڈ پر دوڑتے تھے۔ نظام کی خاص باتیں: 1۔ اکبر نے اس کو باقاعدہ ادارے کی شکل دی اور واقعہ نویس کا عہدہ قائم کیا۔ 2۔ پیغام محفوظ رکھنے کے لیے 'رمز نویس' کوڈ ورڈز استعمال کرتے۔ جیسے "بہار کا جھونکا باغ میں داخل ہوا" کا مطلب ہوتا "شمالی رجمنٹ منتقل کرو"۔ 3۔ کبوتر، گھوڑ سوار ڈاک چوکی، اور خفیہ کوڈز سے پیغام بھیجے جاتے۔ 4۔ یہاں تک کہ قلعوں کی گونج، جالیوں اور شالیمار باغ کے پانی کی آواز کو بھی نگرانی اور رازداری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ نیٹ ورک اتنا مؤثر تھا کہ بادشاہ سلطنت کے کونے کونے سے باخبر رہتا تھا۔ اورنگزیب کے بعد یہ نظام کمزور پڑا تو گورنروں نے جاسوس خرید لیے اور رپورٹیں آنا بند ہو گئیں۔ مختصر یہ کہ مغل جاسوس عام آدمی بن کر رہتے تھے مگر سلطنت کی آنکھ اور کان تھے۔ طاقت تلوار میں نہیں، خبر میں تھی۔ اس تاریخی سچائی کے پردے میں اگر ہم مغلوں کے اس عجیب وغریب اور سحر انگیز جاسوسی جال کی گہرائی میں اتریں تو عقل حیران رہ جاتی ہے کیونکہ یہ محض چٹھی رساں نظام نہیں تھا بلکہ یہ نفسیاتی جنگ اور سائے کی حکمرانی کا ایک ایسا منفرد شاہکار تھا جہاں دیواروں کے بھی کان نہیں ہوتے تھے بلکہ دیواریں خود بولتی تھیں اور صوفی کے لباس میں ملبوس درویش دراصل تختِ شاہی کا سب سے بڑا محافظ ہوتا تھا۔ مغلیہ سلطنت کے دارالخلافہ سے نکلنے والے احکامات اور دور دراز کے صوبوں کے مابین قائم یہ رابطہ اس قدر پراسرار تھا کہ کوتوال سے لے کر نواب تک سب اس خوف میں مبتلا رہتے تھے کہ ان کا ہر ایک سانس دلی یا آگرہ کے دربار میں گنا جا رہا ہے اور یہی خوف مغل مرکزیت کی اصل طاقت بن کر ابھرا تھا۔ مغل بادشاہوں نے طاقت کا سرچشمہ صرف لوہے اور بارود کو نہیں سمجھا بلکہ انہوں نے انسانی نفسیات اور معلومات کی برق رفتاری کو اپنی بقا کا ضامن بنایا جس کی بدولت ایک وسیع و عریض برصغیر پر صدیوں تک ایسی مضبوط گرفت قائم رکھی گئی جس کی نظیر تاریخِ عالم میں بہت کم ملتی ہے اور اس نظام کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں شامل ہرکارے اپنی جان کی پروا کیے بغیر سلطنت کے تاریک ترین گوشوں سے سچائی کشید کر کے لاتے تھے۔
اگر اس نظام کے عجیب و غریب اور مافوق الفطرت نظر آنے والے پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مغلوں نے مواصلات اور جاسوسی کے لیے صرف انسانوں پر تکیہ نہیں کیا بلکہ فطرت اور فنِ تعمیر کو بھی اپنا ممد و معاون بنا لیا تھا جہاں قلعوں کے خفیہ دالان اس طرح تعمیر کیے جاتے تھے کہ ایک کونے میں سرگوشی کی صورت میں کہی گئی بات دوسرے کونے میں بیٹھے بادشاہ یا میرِ منشی کو صاف سنائی دیتی تھی اور باغات میں گرتے ہوئے جھرنوں کی چھم چھم کی آواز کے پیچھے ایسے خفیہ چیمبر بنائے جاتے تھے جہاں سیاسی قیدیوں کی گفتگو اور ان کے منصوبوں کو خاموشی سے قلمبند کر لیا جاتا تھا گویا پانی کا شور بھی رازداری کا ایک پردہ بن جاتا تھا۔

رمز نویسوں کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ تھا کہ اگر کوئی خط دشمن کے ہاتھ لگ بھی جاتا تو وہ اسے شاعری یا عام تجارتی حساب کتاب سمجھ کر نظر انداز کر دیتا جبکہ اس کے پیچھے کسی بغاوت کو کچلنے کا پورا خاکہ موجود ہوتا تھا اور سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان جاسوسوں کو سنسکرت، فارسی، عربی اور مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ اشاروں کی زبان پر بھی اس طرح عبور حاصل ہوتا تھا کہ وہ بھرے بازار میں محض آنکھوں کی جنبش سے پورا پیغام منتقل کر دیتے تھے۔ اکبر اعظم نے جب اس بکھرے ہوئے ڈھانچے کو باقاعدہ وزارت کی شکل دی تو اس نے یہ اصول وضع کیا کہ خبر کی تصدیق کے لیے کم از کم تین مختلف ذرائع سے ایک ہی اطلاع کا آنا لازمی ہے تاکہ ذاتی عناد یا کسی غلط فہمی کی بنا پر کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور اسی عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم مخبری کے نظام نے مغلوں کو ہر دور کے فتنوں اور اندرونی سازشوں سے محفوظ رکھا جس کی بدولت وہ ایک طویل عرصے تک ہندوستان کے طول و عرض پر بلا شرکتِ غیرے حکومت کرتے رہے۔اس نظامِ کار کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب کبھی کسی گورنر یا سپہ سالار کے دل میں سرکشی کا معمولی سا خیال بھی پیدا ہوتا تو اسے اگلے ہی دن شہنشاہ کی طرف سے تنبیہی خط موصول ہو جاتا تھا جس سے باغی قوتوں پر یہ ہیبت طاری رہتی تھی کہ بادشاہ سلامت کے پاس کوئی غیبی علم یا جنات کی فوج ہے جو پلک جھپکتے میں خبریں منتقل کرتی ہے حالانکہ یہ سب ان گمنام چہروں کی بدولت تھا جو خاک نشین بن کر سلطنت کے چپے چپے پر پہرہ دے رہے تھے۔

لیکن تاریخ کا یہ المیہ بھی کتنا عجیب ہے کہ جس نظام نے مغلوں کو عروج کی بلندیوں پر پہنچایا اسی کی تنزلی نے سلطنت کے زوال پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کیونکہ جب اخلاقی پستی آئی اور اورنگزیب عالمگیر کے بعد کمزور جانشینوں نے سلطنت کا شیرازہ بکھرتے دیکھا تو صوبے داروں اور امرا نے سب سے پہلے انہی جاسوسوں کی وفاداریاں خریدیں جس کے نتیجے میں بادشاہ اندھا اور بہرا ہو گیا اور یوں خبر کی طاقت ختم ہوتے ہی تلوار کی دھار بھی کند ہو گئی۔ مغلیہ عہد کا یہ انٹیلیجنس نیٹ ورک ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ حکومتیں رعب اور دبدبے سے نہیں بلکہ درست معلومات اور عوام کے نبض شناس نظام سے چلتی ہیں اور تاریخ کے اوزاروں میں سب سے مہلک ہتھیار ہمیشہ سے وہ پوشیدہ خبر ہی رہی ہے جو وقت پر پہنچ کر کسی بھی سلطنت کا تختہ پلٹ سکتی ہے یا اسے لازوال دوام بخش سکتی ہے۔

Leave A Comment

Advertisement