تازہ ترین

محترم قارئین ۔ مشرقِ وسطٰی کی تپتی ہوئی ریت پر پہلی جنگِ عظیم کے دوران ایک ایسا بڑا کھیل کھیلا گیا جس نے تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ یہ داستان صحرا کی گوریلا یعنی چیریکو جنگ کے ایک ایسے عالمی ہیرو کے گرد گھومتی ہے جو وقت کی ستم ظریفی کے باعث بعد میں شدید بدنامی کا شکار ہوا، اور اس کا جوڑ اسلام کے پیغمبر کی معزز ہاشمی اولاد سے جا ملا۔ اس دور میں جب برطانوی اور فرانسیسی افواج عثمانی سلطنت کے خلاف برسرِپیکار تھیں، تو عثمانیوں کے زیرِ اثر عرب دنیا میں بے چینی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ صدیوں پرانی عثمانی حکومت سے بیزار عرب اپنے لیے ایک الگ خودمختار ریاست کے خواب دیکھ رہے تھے، اور برطانوی مصلحت پسندوں نے ترک فوج کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے اسی عرب قوم پرستی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ سنہ 1915ء کی چلچلاتی گرمیوں میں برطانوی حکام نے ہاشمی خاندان کے معزز رہنماء اور مکہ کے شریف، حسین بن علی سے خفیہ خط و کتابت کا آغاز کیا، جن کا شجرہ نسب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ برطانویوں نے شریف حسین کو عثمانیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے پر اکسایا اور بدلے میں ایک آزاد عرب ریاست کے قیام کا دلفریب وعدہ کیا، مگر چالاکی سے اس مجوزہ ریاست کی جغرافیائی حدود کو مبہم رکھا، کیونکہ شریف حسین نے مصر کے مشرق میں واقع تمام عربی زبان بولنے والے خطوں پر مشتمل جس عظیم سلطنت کا مطالبہ کیا تھا، برطانیہ اسے تسلیم کرنے کے حق میں ہرگز نہیں تھا۔بالآخر 10 جون 1916ء کو مکہ میں شریف حسین نے اپنے محل کی کھڑکی سے عثمانیوں کے خلاف پہلی گولی چلا کر باقاعدہ عرب بغاوت کا بوقلمون صور پھونک دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب جنگجو عثمانی چھاؤنیوں پر ٹوٹ پڑے۔ ابتدائی فتوحات کے بعد جب اس بغاوت کی تپش مدہم پڑنے لگی، تو سنہ 1916ء کے موسمِ خزاں میں برطانوی رابطہ کار افسر تھامس ایڈورڈ لارنس، جو تاریخ میں "لارنس آف عربیہ" کے نام سے امر ہوا، گراں قدر انٹیلیجنس اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ اس معرکے میں کود پڑا۔ لارنس نے شریف حسین کے بیٹے شہزادہ فیصل کے ساتھ مل کر ریگستان کے بدوؤں کو گوریلا جنگ کے ایسے خونی اور اچھوتے حربے سکھائے جنہوں نے ترکوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ ان کا سب سے بڑا ہدف حجاز ریلوے بنی، جو عثمانی فوج کی شہ رگ اور اہم ترین سپلائی لائن تھی؛ انہوں نے جا بجا ٹرینوں، پلوں اور پٹریوں کو بارود سے اڑا کر ترکوں کی رسد کا نظام مفلوج کر دیا۔ اس گوریلا مہم کا سب سے حیران کن معرکہ جولائی 1917ء میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب انہوں نے عقبہ کے ساحلی شہر (موجودہ اردن) پر سمندر کے راستے نہیں، بلکہ تپتے ہوئے ناقابلِ عبور صحرا کو عبور کر کے پیچھے سے اچانک حملہ کیا اور اس اسٹریٹجک بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ فتح کا یہ سفر جاری رہا اور یکم اکتوبر 1918ء کو برطانوی اور عرب افواج نے شام کے تاریخی اور مرکزی شہر دمشق پر اپنا پرچم لہرا دیا، جس کے ساتھ ہی لارنس دنیا بھر میں ایک سحر انگیز جنگی ہیرو بن کر ابھرا۔مگر اس عظیم الشان فتح کے پیچھے مکر و فریب کی ایک ایسی بھیانک داستان پوشیدہ تھی جس سے عرب بالکل بے خبر تھے۔ جس وقت عربوں کا خون صحرا کی ریت کو رنگین کر رہا تھا، برطانوی اور فرانسیسی سلطنتوں نے پسِ پردہ ایک خفیہ معاہدہ کر رکھا تھا جس کے تحت جنگ کے بعد مشرقِ وسطٰی کو آپس میں بانٹا جانا تھا، اور لارنس اس شرمناک دھوکے سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود عربوں کو قربانی کا بکرا بناتا رہا۔ اگرچہ یہ خفیہ سازش سو فیصد اس شکل میں نافذ نہ ہو سکی، لیکن جنگ کے خاتمے پر وہ آزاد اور متحد عرب ریاست کبھی وجود میں نہ آ سکی جس کے لیے شریف حسین بن علی اور ان کے جاں نثاروں نے اپنی جانیں وار دی تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ہوتے ہی برطانویوں اور فرانسیسیوں نے اپنے وعدے پامال کرتے ہوئے آنے والی کئی دہائیوں تک ان عرب صوبوں پر اپنا استعماری کنٹرول برقرار رکھا۔ اس تاریخی دھوکے نے مشرقِ وسطٰی کو جغرافیائی اور سیاسی طور پر ایسے مستقل زخم دیے جن کا خمیازہ یہ خطہ آج تک بھگت رہا ہے۔عرب بغاوت اور لارنس آف عربیہ کی یہ داستان اس تلخ تاریخی حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ سلطنتوں کی جنگ میں مظلوم قوموں کے آزادی کے جذبات کو محض مہروں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شریف حسین بن علی کا ہاشمی خواب اور لارنس کی گوریلا فتوحات دراصل ایک ایسے برطانوی سراب کا حصہ تھیں، جس کا اختصار صرف اور صرف عربوں کے ساتھ ہونے والی ایک ابدی دھوکہ دہی، مشرقِ وسطٰی کی غیر فطری تقسیم اور ایک عظیم سلطنت کے ملبے پر استعماری طاقتوں کے غاصبانہ قبضے کی صورت میں برآمد ہوا۔

Leave A Comment

Advertisement