تازہ ترین

یروشلم، 28 اکتوبر 2026 — 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کا کوئی واضح فاتح نہیں نکلا۔ جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنجمن نتنیاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا بلاک آگے ہے، مگر حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں کر سکا۔

مرکزی الیکشن کمیٹی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 70 سے 85 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں۔ نتنیاہو کا بلاک 120 رکنی کنیسیت میں تقریباً 54 نشستیں حاصل کر رہا ہے۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک کے پاس تقریباً 47 سے 49 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں نے اچھی کارکردگی دکھائی اور 17 سے 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ دونوں بڑے بلاکس میں سے کسی کے پاس بھی حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں نہیں ہیں۔

نتن یاہو کی لیکود پارٹی سب سے بڑی جماعت بنی ہوئی ہے اور اسے تقریباً 27 نشستیں مل رہی ہیں۔ آئزنکوٹ کی یشار پارٹی 20 سے 22 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو پچھلے دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ 2022 کے انتخابات سے واضح طور پر زیادہ ہے۔نتن یاہو قائم مقام وزیرِ اعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے جب تک نئی حکومت نہیں بن جاتی۔ اب اتحادی مذاکرات شروع ہوں گے۔ اگر کوئی مستحکم حکومت نہ بن سکی تو آنے والے مہینوں میں دوبارہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔

باقی ووٹ، جن میں فوجیوں کے ووٹ بھی شامل ہیں، ابھی گنے جا رہے ہیں، اس لیے حتمی نتائج کا انتظار ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement