یمن: حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 53 سے زائد افراد ہلاک، 200 زخمی
یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ صوبہ شبوا میں فوجی کیمپ پر میزائل حملے میں درجنوں اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت کو خدشہ ہے کہ حوثی علاقے میں زمینی کارروائی کا دائرہ مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یمن کے صوبہ شبوا میں العَلَم فوجی کیمپ پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں 53 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ حکام اور فوجی ذرائع کے مطابق حملے میں داخلی سیکیورٹی فورسز کے نئے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جو کیمپ میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے العَلَم کیمپ کو سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس بھرتیوں کے لیے قائم تربیتی مرکز قرار دیا۔
صوبہ شبوا کے نائب گورنر فہد الخلیفی نے بتایا کہ بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے باعث مقامی اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور انہیں شدید زخمیوں کو پڑوسی صوبوں حضرموت اور عدن منتقل کرنا پڑا۔ ان کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکومتی فورسز کو خدشہ ہے کہ اس حملے کے بعد حوثی باغی صوبے میں زمینی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ صوبے میں حکومت کے ایک فوجی ذرائع نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں ایسی پیش رفت کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے جیسی گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہی شہر مخا میں دیکھی گئی، جس پر حوثیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ مذکورہ ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ حوثیوں نے اتوار کو شبوا کو اپنے زیرِ کنٹرول صوبے البیضا سے ملانے والی ایک سڑک بھی بند کردی تھی۔ اس پیش رفت نے علاقے میں مزید فوجی کارروائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
حوثیوں کی خبر رساں ایجنسی ’سبا‘ نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ العَلَم کیمپ کو سعودی عرب کے دشمن اہلکاروں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کا ہدف بنایا گیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔