ایچ ون بی ویزا معطلی کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید گراوٹ
امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت مائیکروسافٹ سمیت بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کی معطلی کے بعد بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں اچانک شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے، جہاں اہم انڈیکس سینسیکس 32 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔بھارتی اسٹاک مارکیٹ گرنے کی وجہ خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، روپے کی کمزوری، عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کے خدشات اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل سرمایہ نکالنے کے باعث بھارتی حصص کی قیمتوں میں کمی بتائی گئی ہے۔ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا اہم انڈیکس سینسیکس 1.44 فیصد گر کر 71 ہزار 593.24 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50 میں 1.64 فیصد کمی ہوئی اور یہ 22 ہزار 231.8 پوائنٹس پر آ گیا۔ نفٹی 50 کی یہ 18 ماہ کی کم ترین اختتامی سطح تھی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مسلسل نو کاروباری دنوں کے دوران بھارتی مارکیٹ سے مجموعی طور پر 469.9 ارب بھارتی روپے، یعنی تقریباً 4.86 ارب ڈالر نکال لیے۔ اس طرح 2026 کے دوران اب تک بھارتی حصص سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی اخراج ریکارڈ 30.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔بھارتی اسٹاک مارکیٹ کا اہم انڈیکس نفٹی 50 رواں برس کے آغاز سے اب تک تقریباً 15 فیصد گر چکا ہے۔ اس کے برعکس، ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عالمی مارکیٹوں کے انڈیکس ایم ایس سی آئی میں 23 فیصد اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارتی حکومت کی سخت معاشی پالیسیوں، خام تیل کی بلند قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل حصص فروخت کرنے کے باعث مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ہفتے معمولی بحالی کے بعد نفٹی 50 اور سینسیکس دوبارہ اس سطح پر پہنچ گئے جہاں حصص کی مسلسل فروخت کا دباؤ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔بھارت کے تمام 16 بڑے شعبوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ چھوٹی کمپنیوں کے حصص کی مجموعی قدر 2.3 فیصد جبکہ درمیانی درجے کی کمپنیوں کے حصص کی قدر 2.5 فیصد گر گئی۔ اہم کمپنیوں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے حصص 1.5 فیصد، آئی سی آئی سی آئی بینک کے حصص 0.6 فیصد اور ریلائنس انڈسٹریز کے حصص 2.5 فیصد نیچے آئے۔تاہم بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کو حالیہ ایچ ون بی ویزا پروگرام میں تبدیل کی گئی سخت پالیسیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔