جب مظلوم کے آنسو ایف آئی آر بن جائیں
قارئین کرام، کسی کے ساتھ برا کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا چاہیے، کیونکہ دنیا کی عدالت میں انسان شاید اپنی صفائی پیش کر لے، گواہ خرید لے، الفاظ بدل دے، کہانی کا رخ موڑ دے، حقیقت پر پردہ ڈال دے، مگر رب کی عدالت میں نہ گواہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ فائلیں گم ہوتی ہیں، نہ سفارش چلتی ہے، نہ دلیل سازی کام آتی ہے۔ کچھ جرائم کی ایف آئی آر تھانے میں نہیں، رب کی بارگاہ میں درج ہوتی ہے، اور وہاں قانون عجیب بھی ہے اور اٹل بھی؛ مظلوم خاموش ہو جائے تو بھی مقدمہ ختم نہیں ہوتا، جس کی زبان بند کر دی گئی ہو اس کی آہ بند نہیں ہوتی، جس کے آنسو کسی نے چھپ کر گرتے دیکھے ہوں انہیں آسمان دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہم دنیا میں کتنے عجیب لوگ ہیں! چہرے پر مسکراہٹ، ہاتھ میں تسبیح، زبان پر دین کی بات، مگر کسی کی عزت کے پیچھے خنجر لیے پھرتے ہیں۔ سامنے محبت، پیچھے سازش؛ سامنے خیرخواہی، پیچھے کردار کشی؛ سامنے دعائیں، پیچھے کسی کی جڑیں کاٹنے کی پوری منصوبہ بندی۔ یہ منافقت کا وہ لباس ہے جس پر باہر سے استری بہت اچھی ہوتی ہے، مگر اندر سے کپڑا سڑا ہوا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کسی انسان کو گرانے کے لیے اس کی ٹانگ نہیں کھینچتے، اس کی جڑ کاٹتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فلاں شخص محنت سے کھڑا ہوا ہے، لہٰذا اسے شکست دینے کے لیے اس کی محنت پر سوال اٹھاؤ، اس کی نیت پر شک کرو، اس کے کردار پر انگلی اٹھاؤ، اس کے ماضی کا کوئی ٹکڑا نکالو، اس کے دوستوں کو اس کے خلاف کرو، اور پھر بڑے اطمینان سے کہو: ’’ہم تو اس کی بھلائی چاہتے ہیں۔‘‘ کبھی کبھی یہ جملہ اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے چھپا زہر ایک انسان کی پوری زندگی برباد کر دیتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کسی شخص کو نقصان پہنچایا ہے؛ نہیں، کبھی کبھی وہ دراصل اپنے لیے ایسی فائل تیار کر رہا ہوتا ہے جو قیامت کے دن خود اس کے سامنے کھولی جائے گی۔ قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے۔ بے شک آپ کا رب گھات میں ہے۔ یہ آیت صرف کمزوروں کے لیے تسلی نہیں، طاقتوروں کے لیے انتباہ بھی ہے۔ تم سمجھتے ہو کوئی دیکھ نہیں رہا؟ رب دیکھ رہا ہے۔ تم سمجھتے ہو جس شخص کو تم نے رلایا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟ ممکن ہے وہ واقعی تمہارا کچھ نہ بگاڑے، مگر اس کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تم نے کسی کی عزت چھینی، کسی کی روزی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی، کسی کے حق کو دبایا، کسی کی محنت کا کریڈٹ چھین لیا، کسی کے بارے میں جھوٹ پھیلایا، کسی کو تنہا کیا، کسی کے خلاف لوگوں کے دل خراب کیے اور پھر رات کو سکون سے سو گئے؛ یاد رکھو، تمہاری نیند اس بات کی دلیل نہیں کہ مظلوم کی فریاد آسمان تک نہیں پہنچی۔ دنیا میں سب سے خطرناک چیز کبھی کبھی تلوار نہیں ہوتی، ایک جھوٹا جملہ ہوتا ہے۔ تلوار کا زخم دکھائی دیتا ہے، مگر جھوٹ کا زخم برسوں چھپا رہتا ہے۔ کسی کا گھر ٹوٹ جائے، کسی کی نوکری چلی جائے، کسی کا رشتہ ختم ہو جائے، کسی کی عزت خاک میں مل جائے، کسی کی محنت ضائع ہو جائے، اور یہ سب کسی ایک جھوٹ، ایک سازش یا ایک منافقانہ مسکراہٹ کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔ پھر وہی شخص مجلس میں بیٹھ کر اخلاقیات پر لیکچر دیتا ہے۔ کیا خوب زمانہ ہے! قاتل بھی جنازے میں سب سے آگے کھڑا ہو جاتا ہے، اگر اسے یقین ہو کہ کسی کو اس کے ہاتھ کا خون نظر نہیں آ رہا، لیکن رب کو خون بھی نظر آتا ہے اور ہاتھ بھی۔ رب کو صرف یہ معلوم نہیں کہ تم نے کیا کیا؛ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کیوں کیا۔ یہی تو اصل خوف ہے۔ دنیا کے سامنے تمہاری کہانی کچھ اور ہو سکتی ہے، مگر اللہ کے سامنے تمہاری نیت بھی کھلی ہوئی ہے۔ اس لیے کسی انسان کو نقصان پہنچانے سے پہلے ذرا رک جاؤ اور اپنے دل سے پوچھو: اگر یہی کام میرے ساتھ ہو جائے تو؟ اگر میری عزت اسی طرح اچھالی جائے تو؟ اگر میری روزی اسی طرح روکی جائے تو؟ اگر میری اولاد کے سامنے میرے کردار پر انگلی اٹھائی جائے تو؟ اگر میرے خلاف وہی جھوٹ بولا جائے جو میں آج کسی دوسرے کے خلاف بول رہا ہوں تو؟ شاید دل کانپ جائے۔ اور اگر دل پھر بھی نہ کانپے تو قرآن کی یہ تنبیہ سنو: مہلت مل جانا کامیابی نہیں؛ کبھی اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے، کیونکہ حساب مؤخر ہوتا ہے، ختم نہیں۔ اسی لیے کسی کی جڑ کاٹتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ تم نے صرف ایک درخت گرایا ہے؛ ہو سکتا ہے تم نے اپنے لیے ایسی بددعا خرید لی ہو جس کے الفاظ مظلوم نے زبان سے نہ کہے ہوں، مگر اس کے آنسوؤں نے آسمان تک پہنچا دیے ہوں۔ مظلوم کی خاموشی کو اپنی فتح سمجھنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ خاموش انسان کا رب خاموش نہیں۔ اس لیے اگر کسی سے اختلاف ہے تو دلیل سے کرو، شکایت ہے تو سامنے کرو، غلطی ہے تو اصلاح کرو، مگر کسی کی عزت کو اپنی سیڑھی نہ بناؤ، کسی کی کمزوری کو اپنا ہتھیار نہ بناؤ، کسی کی غیر موجودگی کو اس کے خلاف عدالت نہ بناؤ اور کسی کے اعتماد کو اپنی سازش کا راستہ نہ بناؤ۔ کیونکہ دنیا کی عدالت میں مقدمہ جیت کر بھی انسان اللہ کی عدالت میں ہار سکتا ہے، اور وہاں نہ وکیل کام آئے گا، نہ تعلق، نہ منصب، نہ چالاکی، نہ وہ مصنوعی مسکراہٹ جس کے پیچھے برسوں سے زہر چھپایا گیا تھا۔ وہاں صرف یہ دیکھا جائے گا کہ تم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ کیا کیا؟ تب شاید انسان اپنے ہاتھ دیکھے گا؛ دنیا میں جن پر کوئی نشان نہ تھا، مگر آخرت میں انہی ہاتھوں کے اعمال ایک کھلی کتاب کی صورت میں اس کے سامنے ہوں گے۔ اس لیے کسی کے ساتھ برا کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا۔ ہو سکتا ہے جسے تم کمزور سمجھ رہے ہو وہ تمہارے خلاف کچھ نہ کرے، شاید وہ تمہیں معاف بھی کر دے، مگر اگر اس کا حق تمہارے ذمے رہ گیا تو معاملہ صرف اس شخص اور تمہارے درمیان نہیں رہے گا؛ وہ رب کے دربار تک پہنچ جائے گا۔ وہاں نہ فائل پھٹے گی، نہ ثبوت جلیں گے، نہ حقیقت دفن ہوگی۔ وہاں ہر آنسو گواہ ہوگا، ہر ظلم ثبوت ہوگا، ہر نیت محفوظ ہوگی۔ اس لیے لوگوں کے دل نہ توڑو، حقوق نہ دباؤ، کسی کی عزت سے نہ کھیلو، کسی کی روزی نہ چھینو اور کسی کے خلاف جھوٹ نہ بولو۔ دنیا میں شاید تمہاری چال کامیاب ہو جائے، شاید لوگ تمہاری بات مان لیں، شاید تم تالیاں بھی سمیٹ لو، مگر رب کی عدالت میں ہر پردہ اٹھے گا۔ وہاں وہ آنسو بھی بولیں گے جنہیں دنیا نے بے آواز سمجھا تھا، وہ دل بھی گواہی دیں گے جنہیں تم نے توڑ کر چھوڑ دیا تھا، اور وہ خاموشیاں بھی چیخ اٹھیں گی جنہیں تم اپنی فتح سمجھتے رہے۔ یاد رکھو، رب کی عدالت میں ایف آئی آر بھی رب کے علم میں لکھی جاتی ہے، گواہ بھی اسی کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کسی کی جڑ کاٹنے سے پہلے اپنے انجام کی جڑ ضرور دیکھ لینا، کیونکہ انسان دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے کھودتے اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ زمین سب کے قدموں کے نیچے ایک جیسی ہے؛ آج تم کسی کو گرا رہے ہو، کل تمہیں بھی اسی زمین پر کھڑا ہونا ہے، مگر فرق صرف اتنا ہوگا کہ دنیا میں تمہاری زبان بول رہی ہوگی اور وہاں تمہارے اعمال بولیں گے۔ وہاں شاید تمہارے پاس صفائی کے لیے الفاظ بہت ہوں، مگر مظلوم کے آنسو تم سے پہلے گواہی دے چکے ہوں گے۔ اور پھر وہ لمحہ آئے گا جب انسان کو سمجھ آئے گی کہ اس نے دنیا میں جسے معمولی سمجھ کر رلایا تھا، وہ دراصل اپنے رب کے حضور اس کے خلاف ایک ایسی فائل چھوڑ گیا تھا جس کا ہر صفحہ محفوظ تھا۔ اس لیے ظلم سے پہلے رک جاؤ، سازش سے پہلے رک جاؤ، جھوٹ سے پہلے رک جاؤ، کسی کا دل توڑنے سے پہلے رک جاؤ؛ کیونکہ کبھی کبھی ایک آنسو آسمان تک جانے کے لیے پوری زبان کا محتاج نہیں ہوتا۔ رب دیکھ رہا ہے، رب سن رہا ہے، رب جانتا ہے، اور رب کی عدالت میں کوئی مقدمہ بے خبر نہیں رہتا۔