تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے درمیان سیاسی صورتحال، گورنر راج کی دھمکیوں اور ممکنہ استعفوں کے حوالے سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے اعلان کیا کہ اگر خیبرپختونخواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو پی ٹی آئی اسمبلی اسمبلی نہیں کھیلے گی بلکہ فوری طور پر تمام اسمبلیوں سے استعفے دے دیئے جائیں گے۔

اس پر طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے استعفے دیے تو ان کے اپنے 36 ارکانِ قومی اسمبلی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے، جس کے جواب میں جنید اکبر نے کہا کہ 36 ہوں یا 56، ہم استعفے ضرور دیں گے، لانگ مارچ کسی کے کہنے پر شروع نہیں کیا گیا تھا کہ اسے کسی کے کہنے پر ملتوی کر دیا جائے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت نے ان کی مذاکرات کی خواہش کو کمزوری سمجھا، اسمبلی میں ان کی تقاریر غائب کردی جاتی ہیں اور انہیں سیاسی اسپیس نہیں دی جا رہی، ہم اپنی حکومت بچا بھی سکتے ہیں اور اسے پھونک بھی سکتے ہیں، اگر حکومت نے گورنر راج جیسا کوئی قدم اٹھایا تو ہمیں الٹا آسانی ہو جائے گی۔وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے میں خود ان تمام لوگوں کی مذمت کرتا ہوں جو دہشت گردوں کو سپورٹ کرتے ہیں یا جنہوں نے اسامہ بن لادن سے کبھی پیسے لیے، خیبرپختونخواہ میں ہمارے وزراء اور ارکانِ اسمبلی نے دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور ان کے عزیز و اقارب شہید ہوئے، ماضی میں طالبان کو افغانستان سے مذاکرات کے لیے لانے والوں اور ہیلی کاپٹر بھر کر لے جانے والوں کی فہرست دنیا کو دکھائی جائے، اس وقت پی ٹی آئی کا کون سا بندہ اس میں شامل تھا۔
 

 

Leave A Comment

Advertisement