تازہ ترین

سعودی عرب میں توہینِ رسالت پر سری لنکن شہری کو سزائے موت سنا دی گئی۔سعودی عرب کی اپیل کورٹ نے فیس بک پر مبینہ توہینِ رسالت کے الزام میں 24 سالہ سری لنکن شہری انوجن سیواراسا کو سزائے موت سنا دی۔ وہ گزشتہ برس روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب گیا تھا اور رواں سال جولائی میں ایک فیس بک تبصرے کے معاملے پر گرفتار کیا گیا تھا۔انوجن کا تعلق سری لنکا کے شہر کلمنائی سے ہے اور وہ ستمبر 2025 میں ملازمت کے لیے سعودی عرب پہنچا تھا۔ رواں سال جولائی میں سری لنکا میں سوشل میڈیا پر ایک مذہبی معاملے کے بعد مختلف افراد کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہوئی، جس کے دوران انوجن نے فیس بک پر ایک ایسا تبصرہ کیا جسے سعودی حکام نے اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی توہین قرار دیا۔

انوجن کے اہل خانہ کے مطابق اس نے متنازع تبصرہ بعد میں حذف کردیا تھا اور معذرت بھی کی تھی، تاہم تبصرے کا اسکرین شاٹ اس کے سعودی عرب میں موجود آجر اور پھر سعودی حکام تک پہنچا، جس کے بعد اس کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور اسے جولائی میں گرفتار کرلیا گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی الاحساء کریمنل کورٹ نے ابتدائی طور پر انوجن کو سائبر کرائم قوانین کے تحت 5 سال قید اور 30 لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس کا موبائل فون ضبط کرنے اور فیس بک اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

بعد ازاں انوجن کی جانب سے سزا میں کمی کے لیے اپیل دائر کی گئی، تاہم سعودی پراسیکیوشن نے بھی اپیل کرتے ہوئے مقدمے کو سائبر کرائم قانون کے بجائے شریعت کے تحت چلانے کی درخواست کی۔ 17 ستمبر کو اپیل کورٹ نے استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کو توہینِ رسالت سے متعلق جرم قرار دیا اور سزا بڑھا کر سزائے موت کردی۔

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتا ہیراتھ کے مطابق حکومت انوجن کی مدد کے لیے تمام دستیاب قانونی اور سفارتی راستے استعمال کر رہی ہے۔ حکومت سعودی عرب کی اعلیٰ عدالت میں مزید قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ انوجن کے قانونی اخراجات بھی حکومت نے برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔سری لنکن حکومت نے سعودی عرب سے سزا پر نظرثانی، معافی یا سزا میں کمی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سری لنکا کے صدر کی جانب سے سعودی فرمانروا کو رحم کی اپیل بھی بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ایک پارلیمانی وفد سعودی عرب جا کر یہ درخواست پہنچانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

سری لنکن حکام کے مطابق ملک کا سفارتخانہ ریاض انوجن کے معاملے میں قونصلر معاونت فراہم کر رہا ہے اور سعودی حکام سے رابطے میں ہے۔ دو سینئر سری لنکن وکلا نے بھی سعودی عرب جا کر مقامی قانونی ٹیم کے ساتھ مل کر مقدمے کی پیروی میں مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب انوجن کے اہل خانہ نے اس کی زندگی بچانے کے لیے سری لنکن حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اس کی والدہ نے اپنے بیٹے کے لیے رحم کی اپیل کرتے ہوئے سعودی حکام سے اسے معاف کرکے واپس بھیجنے کی درخواست کی ہے۔انوجن کے اہل خانہ کو 28 ستمبر کے بعد سے اس کی خیریت کے بارے میں کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔ سری لنکن حکومت نے سفارتی کوششوں کے دوران خاندان کو مزید بیانات دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ معاملہ سری لنکا میں تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں شہری روزگار کے لیے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ سری لنکن حکومت، سیاسی جماعتیں اور مختلف مذہبی حلقے انوجن کے لیے قانونی اور سفارتی سطح پر ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement