انتخابی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر نیتن یاہو کو دوبارہ جرمانہ
اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو دوسری مرتبہ قانونی اخراجات ادا کرنے اور اپنی ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک ویڈیو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کہ فوجی اڈے پر بنائی گئی ویڈیو انتخابی تشہیر کے زمرے میں آتی ہے۔کمیٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے جج نوعم سولبرگ نے نیتن یاہو کو تل نوف ایئر بیس پر بنائی گئی ویڈیو اپنے ذاتی اکاؤنٹس سے حذف کرنے اور 2,500 شیکل (تقریباً 821 ڈالرز) قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نوعم سولبرگ نے قرار دیا کہ نیتن یاہو کے ذاتی اکاؤنٹس پر ویڈیو کی اشاعت انتخابی قوانین کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ اس میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے، جن میں ایک فوجی اڈہ اور اسرائیلی فضائیہ کا طیارہ شامل ہے، تاہم فیصلے میں نیتن یاہو کو یہ ویڈیو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔یہ فیصلہ نوعم سولبرگ کی جانب سے اتوار کو نیتن یاہو کے خلاف دائر 5 درخواستیں منظور کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ان درخواستوں میں نیتن یاہو کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سرکاری تقاریر اور اسرائیلی فوج کو انتخابی تشہیر کے لیے استعمال کرنے سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ان درخواستوں میں ایک ایسی ویڈیو بھی شامل تھی جس میں نیتن یاہو جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی مورچے کے دورے کے دوران نظر آ رہے تھے۔سولبرگ نے قرار دیا کہ ایڈٹ کی گئی ویڈیو میں حکومت اور وزیرِاعظم کی کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا، جبکہ فوجیوں کے حوصلے بڑھانے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے سے متعلق ویڈیو کے بعض حصے حذف کر دیے گئے تھے۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ یقیناً انتخابی تشہیر ہے، جس پر نیتن یاہو کو یہ پوسٹس حذف کرنے اور 29,000 شیکل (تقریباً 9,000 ڈالرز) قانونی اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے 29 ستمبر کو وسطی اسرائیل میں واقع تل نوف ایئر بیس سے یہ ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس کے پسِ منظر میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک طیارہ بھی نظر آ رہا تھا۔ ویڈیو میں نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ انتخابات سے قبل اسرائیل کو حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ہمارے دشمن انتخابات سے قبل ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے ہیں، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی قیادت میں حکمراں اتحاد کا مقابلہ اپوزیشن جماعتوں سے ہو گا۔