تازہ ترین

قارئین کرام، اسلام وہ دین ہے جو چودہ سو سال سے ہر طوفان کے مقابلے میں ڈٹا رہا ہے، مگر ہر دور میں اس کے خلاف سازشوں کا انداز بدلتا رہا ہے۔ موجودہ دور کی سازش تلوار سے نہیں، خیال سے لڑی جا رہی ہے، یہ ایک ایسی خاموش جنگ ہے جس کا میدان دل و دماغ ہیں۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو صلیبی جنگوں میں اسلام کو میدان جنگ میں شکست دینے کی کوشش کی گئی، منگولوں نے بغداد کی لائبریریاں جلائیں تاکہ علم ختم ہو جائے، اور استعماری دور میں خلافت عثمانیہ کو اندر سے کمزور کیا گیا۔ آج وہی مقاصد ہیں، مگر ہتھیار بدل گئے ہیں، تلوار کی جگہ میڈیا، معیشت، تعلیم اور ثقافت نے لے لی ہے ۔

پہلی بڑی سازش فکری اور نظریاتی محاذ پر ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، مگر آج اسے صرف مسجد اور تسبیح تک محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک منظم طریقے سے یہ پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے کہ اسلام ترقی کے خلاف ہے، اسلام میں شدت ہے، اسلام عورت کو حقوق نہیں دیتا۔ اس کے لیے فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان کو کبھی دہشت گرد، کبھی جاہل اور کبھی قدامت پسند کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل اپنے دین سے شرمندہ ہو جائے اور مغربی تہذیب کو نجات سمجھے۔ یہی وہ حربہ تھا جو اندلس میں استعمال ہوا تھا، وہاں مسلمانوں کو عیش و عشرت اور فنون لطیفہ میں الجھا کر ان سے مسجدیں چھین لی گئیں۔

دوسری حیران کن سازش تعلیمی نظام پر حملہ ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنا اس کا اہم ہتھیار ہے۔ ہمارے بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی سب مغرب کی مرہون منت ہے، جبکہ جابر بن حیان، ابن سینا، الخوارزمی اور ابن الہیثم جیسے مسلم سائنسدانوں کا ذکر نصاب سے نکالا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مدارس اور یونیورسٹی کے درمیان خلیج پیدا کی جا رہی ہے۔ ایک طرف دین کو دنیا سے الگ اور دوسری طرف دنیا کو دین سے بیزار دکھایا جا رہا ہے، تاکہ امت میں دو طبقے بن جائیں جو کبھی متحد نہ ہو سکیں۔تیسری سازش معاشی اور سماجی محاذ پر ہے۔ سود پر مبنی معیشت کو اس طرح مسلط کیا گیا ہے کہ غریب ملک قرضوں کے جال میں پھنستے چلے جائیں۔ جب ایک مسلمان ملک آئی ایم ایف کے قرض میں جکڑا ہوتا ہے تو وہ آزاد فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حیا، پردہ اور نکاح جیسے مقدس رشتوں کو قدامت پسندی کہا جا رہا ہے اور بے حیائی کو آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر فحاشی اور بے راہ روی کو اس خوبصورتی سے پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک عام نوجوان اسے ترقی سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔چوتھی اور سب سے خطرناک سازش فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کی ہے۔ اسلام کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ اس اتحاد کو توڑنے کے لیے کبھی شیعہ سنی، کبھی دیوبندی بریلوی، کبھی پشتون پنجابی اور کبھی قوم پرستی کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے۔ آج شام، عراق، یمن اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں مسلمان کا خون مسلمان کے ہاتھوں سے بہایا گیا اور فائدہ تیسرے فریق نے اٹھایا۔ یہ وہی پرانی انگریز پالیسی ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ان تمام سازشوں کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے علم، اتحاد اور تحقیق۔ قرآن نے ہمیں پہلا حکم اقرا کا دیا تھا۔ جب تک ہم خود تحقیق نہیں کریں گے، سنی سنائی باتوں پر عمل کریں گے، ہم اس جال سے نہیں نکل سکتے۔ ہمیں اپنی تاریخ پڑھنی ہوگی، اپنے بچوں کو اپنے ہیروز کے بارے میں بتانا ہوگا، میڈیا کے پروپیگنڈے کو دلیل سے رد کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر فرقہ واریت سے نکل کر ایک امت بننا ہوگا۔ یاد رکھیں، اسلام کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، یہ اللہ کا وعدہ ہے، مگر سازشوں کا شکار ہو کر ذلیل و خوار ہونا ہمارا اپنا انتخاب ہے۔

Leave A Comment

Advertisement