تازہ ترین

رحیم یار خان (أں لائن)بلوچستان میں اغواء کیے گئے مزدوروں کے افسوسناک واقعے میں ایک مغوی مزدور کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا جس کی نعش برآمد ہونے پر ورثاء نے میت کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یار خان کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

بستی رسول پور موضع امین گڑھ کے رہائشی مزدور شاہد کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا جس کی نعش ضلع کوہلو کے علاقے نرہن ندی سے برآمد ہوئی۔ مقتول کے ورثاء کے مطابق شاہد کا بیٹا احتشام بھی تاحال اغواء کاروں کے قبضے میں ہے جبکہ ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے دیگر 8 مزدوروں کی بازیابی بھی تاحال عمل میں نہیں آ سکی۔

یاد رہے کہ 28 ستمبر کو بلوچستان کے علاقے نانا صاحب زیارت، پلڑی میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے 10 مزدوروں سمیت متعدد افراد کو اغواء کر لیا تھا۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی جس میں مغوی مزدوروں نے اپنی جانوں کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں قتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ مقتول شاہد کی نعش ملنے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور بستی رسول پور میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ ورثاء نے میت کے ہمراہ سیاسی وسماجی شخصیت چودھری عبدالرؤف کی قیادت میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے، مغوی احتشام سمیت دیگر تمام مزدوروں کو فوری بازیاب کرایا جائے اور اس اندوہناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

کیپشن:
رحیم یارخان: بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اغواء کے بعد قتل ہونیوالے مزدور شاہد کے ورثاء میت کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کے باہر احتجاج کررہے ہیں

Leave A Comment

Advertisement