تازہ ترین

 

 

تحریر جاوید اقبال

 

 

وطن عزیز میں نیے صوبوں کے قیام کا مسلہ اگرچہ نصف صدی سے چلا أرہا ہے ،ان نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی تحریکیں أج بھی مختلف طریقوں سے جاری ہیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی طرف سے ملک میں نیے صوبوں کے قیام کی بجاۓ انتظامی یونٹ بنانے کے اعلان نےنیے صوبوں کا مطالبہ  کرنے والوں کی تحریکوں کو گرما کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سےقومی سیاست الیکٹرانک میڈیا، ایوانوں   سیاسی جماعتوں، میں اس ہاٹ ایشوزپر  بحث کا سلسلہ جاری ہے
 ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں جنوبی پنجاب سرائیکی صوبہ اور بہاولپور ریاست صوبہ کی بحالی کے لیے  گزشتہ نصف صدی سے جدوجہد اور تحریکیں جاری ہیں جن کی بازگشت نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ میڈیا، اسمبلیوں اور مقتدر شخصیات تک سنائ دے رہی ہیں پنجاب کے حکمرانوں کی طرف سے ان علاقوں میں ترقیاتی اسکیموں روزگار کی فراہمی ودیگر بنیادی سہولیات و وسائل سے محروم رکھنے کی وجہ سے  احساس محرومیوں میں اضافہ چلا ارہا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کی عوام میں الگ صوبہ کو ہی مسائل کا حل سمجھا جانے لگا ہے تاکہ اس خطے کے وسائل اپر پنجاب لاہور ودیگر شہروں پر خرچ ہونے کی بجائے اس علاقے کی ترقی وخوشحالی کے لیے کام أسکیں۔

بہاولپور صوبہ کی بحالی کا ذکر کیا جائے تو قیام پاکستان سے قبل یہ ریاست مالی لحاظ سے خوشحال ریاستوں میں شامل تھی اس ریاست کے حکمرانوں کی دریا دلی کا اور پاکستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت حکمران نواب محمد صادق خامس  نے نہ صرف اپنی خوشحال اور امیر ریاست کو پاکستان میں شامل کیا بلکہ پاکستان کے خالی خزانے کو بھی پیسوں سے بھر دیا جس سےدو سالوں تک ملک  میں تنخواہوں ودیگر حکومتی اخراجات برداشت کیے نواب صاحب کی قائد اعظم سے محبت اور تعلق کا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا تا ہے کہ نواب أف بہاولپور نے اپنےذاتی استعمال ہونے والی دنیا کی مہنگی ترین  گاڑی روزرائیس بھی قائد اعظم کے حوالے کی  پاکستان کی مدد محبت اور احسانات کی وجہ سے قائد اعظم نے انہیں محسن پاکستان کالقب عطا کیانواب أف بہاولپور نے اپنی ریاست کی طرح ملک کے کئ شہروں میں علمی درسگاہیں ودیگریاد گار عمارات تعمیر کرائیں اس محسن پاکستان نواب بہاولپور نے تو  مشکل وقت میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا مگر وقت کے حکمرانوں نے اس محسن پاکستان سے اپنے ملکیتی سہارے چھین کر محسن کشی کا سلسلہ جاری رکھا  نوابوں کے خاندانی محلات لاکھوں ایکڑ اراضی ودیگر خاندانی جائیدادوں سے محروم کر رکھا ہے
 سب سے بڑی بد عہدی یہ کی کہ19اپریل 1951سے 14اکتوبر 1955 تک صوبائ حیثیت رکھنے والی اس سرزمین کواس وقت کے حکمران جنرل یحی خان نے یہ کہہ کر ون یونٹ میں ضم کردیا کہ یہ قومی مفاد کا مسلہ ہے نواب اف بہاولپور صادق محمد خان خامس کے احتجاج اورشدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلے ریاست کو ختم کیا اب صوبائ حیثت کو ختم کردی ہے یہ صلہ دیا ہے پاکستان کے محسن بننے کاشکووں اور عوامی رد عمل پراس وقت کے وزراے اعظم چوہدری محمد علی اور محمد علی بوگرہ نے اس تحریری معاہدہ محضر نامے پر دستخط کیے کہ جب بھی ون یونٹ بحال کرکے صوبے بناے گیے تو بہاولپور کی صوبائ حیثیت بھی بحال کردی جاۓ گی مگرصدر یحی خان نے ایک اور صدارتی ارڈیننس کے ذریعےون یونٹ ختم کرکے نہ صرف سندھ سرحد اور پنجاب کو بطور صوبہ بحال کردیا بلکہ بلوچستان کے نام سے نیا صوبہ بنا دیامگر وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوے 28 مارچ1970 ڈبہاولپور کو پنجاب میں ضم کردیا بہاولپورجوکہ چارسال پانچ ماہ اور 15دن صوبہ رہا ،21مئی 1952 کو باقاعدہ  انتخابات کراے گئے جس میں 49صوبائی اسمبلی کے ممبران منتخب ہوے جن میں 35مسلم لیگ سے منتخب ہوۓ جن میں جمال دین والی کے مخدوم زادہ حسن محمود خان پور سے مخدوم محسن شاہ بھونگ سے رئیس غازی رحیم أباد سےسردار رفیق حیدر خان کے والد سردار فضل خاں  لغاری جسے مخدوم حسن محمود چچا کہہ کر پکارہ کرتے تھے  اسی طرح بہاولپور ویزمان کے طارق بشیر چیمہ کے والد چوہدری بشیر احمد چیمہ میاں اللہ بخش ملک محمد مسلم ودیگر شامل تھے مخدوم زادہ حسن محمود دوسیٹوں جمال دین والی اور بہاولپور سے کامیاب ہوئے اور بہاولپور اسمبلی کے لیے منتخب ہوے 9 امیدواران بلا مقابلہ منتخب ہوئے بعد ازاں مخدوم زادہ حسن محمود پہلے منتخب وزیر اعلی بنے جبکہ  شیخ عبدالحق اف چنی گوٹھ پہلے اسپیکر اور چوہدری بشیر چیمہ ڈپٹی سپیکر بنے چوہدری رحمت اللہ قائد حزب اختلاف بنے اس دور میں قابل ذکر یہ بات تھی کہ صوبائی اسمبلی نے چارسال تک سرپلس بجٹ منظور کیا دو کروڑ روپے دوسالوں تک امداد  وفاق کو  دی جاتی رہی بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کی بجائے صدارتی أرڈیننس کے ذریعے اسے پنجاب میں شامل کرکے ڈویژن بنادیا گیا ۔ اس نا انصافی پر اس سرزمین کے عوام اور عوامی نمائندگان  تحریک بحالی صوبہ بہاولپور جاری رکھتے ہوۓ اور سڑکوں پر نکل أے صاحبزادہ مامون الرشید عباسی کی ولولہ انگیز قیادت میں صوبہ محاذ بہاولپور کے نام سے پہلی تحریک کا أغاز کیا جوش وجذبے کے تحت عوامی پر امن 27 روزہ تحریک چلی جو 24اپریل1970تک کامیابی سے جاری رہی اسی روز بیرون فرید گیٹ تحریکی جلوس میں شریک نہتے شرکا پر اندھا دھند گولیاں برسادی گیں جس سے درجنوں شہید ، زخمی و واسیرہوۓان اسیران کو عدالتی سزائیں دی گیئں جن  میں شہزادہ مامون الرشید کو دس سال قید بامشقت  سردار اسلم خان ایڈووکیٹ کو ایک سال سابق چیف جسٹس میاں اللہ نواز خان کو نو ماہ علامہ رحمت اللہ ارشد اور احمد نواز گردیزی کو ایک ایک سال میاں نظام الدین حیدر چوہدری فرزند علی ایڈووکیٹ اور سپیکر بہاولپور اسمبلی کو چھ ماہ جسٹس سردار محمد خان کو تین ماہ کی سزا دی گئی ان سزاوں میں کوڑے قید وبند کی سعوبتیں بھی شامل تھیں۔ اسی طرح لاٹھی گولی والی سرکار نے بندوق کے زور پر تحریک کو دبا دیا گیا  کچھ عرصہ تو پولیس کے زور سے تحریک کو کمزور کیا مگر تحریک بحالی صوبہ کو جاری رکھنے کے جذبات ایک عرصہ تک جاری رہے جو أج بھی مختلف انداز میں جاری ہیں یہ تحریکیں عوام میں اس قدر مقبول ہیں کہ گزشتہ نصف صدی سے ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی پی ٹی  أی جماعت اسلامی جمعیت العلماے اسلام نے بھی بہاولپور صوبہ بحالی کے مطالبے کی  نہ صرف حمایت کی  بلکہ کئ جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور میں بھی اسے شامل رکھا  انتخابی امیدواران نے  بہاولپور صؤبہ کی بحالی کے نام پر ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوے مگر صوبہ بحالی میں کامیاب نہ ہوسکے ان میں مخدوم سید احمد محمود مخدوم خسرو بختیار محمد علی درانی قابل ذکر ہیں


محسن پاکستان کی تیسری پشت میں نواب صلاح الدین عباسی موجودہ امیر أف بہاولپورنےسال2010میں اپنی قیادت میں ایک مرتبہ صوبہ بہاولپور محاذ کے نام سے صوبہ بحالی کی تحریک چلائ جس میں انہوں نے صادق أباد تا منچن أباد طوفانی دورے کیے جگہ جگہ والہانہ استقبال اور گل پاشی ہوئ اسی تحریک کے پریشر کے نتیجے میں سال 2012میں نواز شریف کے دور حکومت میں پنجاب اور قومی اسمبلی سے صوبہ بہاولپور کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں جو صوبہ منظور نہ کراسکیں اس کے بعد ضلع رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والےمخدوم سید احمد محمود مخدوم خسرو بختیار  اور بہاولپور کے محمد علی درانی عابدہ درانی فاروق اعظم ملک نے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے لیے تحریکوں کی قیادت کرتے ہوۓ بھر پور أوازیں اٹھائیں مگر یہ متحرک قائدین بھی صوبہ بحال کروانے میں کامیاب نہ ہوسکے
26اگست2026کو ایک مرتبہ پھر محسن پاکستان نواب صادق محمد خان کی چوتھی پشت میں موجودہ ولی عہد کراون پرنس محمد بہاول خان عباسی نے بحالی صوبہ بہاولپور کی قیادت کرتے ہوے تحریک کا أغاز کردیا ہے وہ اعلی تعلیم یافتہ اور اسلاف کے نقش قدم پر چلنے والے نوجوان قائد ہیں  حالات کے مطابق سیاست کرنے اور تحریک کی قیادت کرنے کی بھر پور صلاحیت کی حامل اس نوجوان شخصیت نے اپنی ٹیم سٹاف افیسر سردار محمد یحی کلاچی اور کواڈینیٹر محمد عادل خان عباسی کے ہمراہ پہلے مرحلے میں  ڈویژن بھر کے طوفانی دورے کیے پریس کانفرنسز بار سے خطاب میں صوبہ بحالی کی تحریک کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور مختلف پہلووں کے بارے میں أگاہ اور سوالات کے جوابات دیے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام اور حکام تک پہنچے ان دوروں کے دوران ولی عہد کراون پرنس کو بھی اپنے والد نواب صلاح الدین عباسی کی طرح والہانہ عوامی استقبالوں اور عوامی پذیرائ ملی سیاسی سماجی مذہبی  کاروباری سرکردہ شخصیات نے ولی عہد کو خوش امدید کہا ان کے اعزاز میں جگہ جگہ استقبالیوں کا انعقاد کیا گیا جہاں ولی عہد سے پہلی بار ملاقات اور ان کے عوامی سٹائیل دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ولی عہد کے ضلع رحیم یارخان کے  کے مختصر دورے نے جہاں محسن پاکستان سے محبت کے جذبے کو تازہ کیاوہاں تحریک کی قیادت پر بھر پور اعتماد کرتے ہوے یقین ظاہر کیا کہ وہ صوبہ بہاولپور کی بحال کراکر اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ایک بار پھر اس خطے میں ترقی خوشحالی محبت بھائ چارے اور خاندانی روایات کا نیا دور شروع ہوگا