عدم تحفظ کا شکار خواتین وقتی محبت کو بھی حقیقی سمجھ کر قبول کرلیتی ہیں: قدسیہ علی
پاکستان شوبز کی ابھرتی ہوئی اداکارہ قدسیہ علی کا کہنا ہے کہ جو خواتین بچپن میں والدین کی محبت سے محروم رہتی ہیں، وہ عدم تحفظ کا شکار ہو کر وقتی محبت کو بھی حقیقی سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں۔
اداکارہ قدسیہ علی اور اداکار عباس اشرف اعوان ان دنوں ڈرامہ ایک محبت اور میں ماہم اور فارس کے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے میں ایسے ازدواجی رشتے کی عکاسی کی گئی ہے جہاں ایک خاتون خود پسند شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے اور اس کے رویّے کے منفی اثرات کا سامنا کرتی ہے۔حال ہی میں دونوں فنکاروں نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے آج کے مردوں اور خواتین کے رویّوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران عباس اشرف اعوان نے کہا کہ میرے خیال میں مردوں میں خود پسندی اور برتری کا احساس زیادہ تر والدین کی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ والدین اکثر اپنے بیٹوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے برتر ہیں، خاندان کے اصل وارث ہیں اور ہر چیز پر ان کا زیادہ حق ہے۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے منفی خود پسند شخصیت کا شکار نہ ہوں تو انہیں بیٹوں اور بیٹیوں، دونوں کی یکساں تربیت کرنی چاہیے اور دونوں کو برابر کی اہمیت دینی چاہیے۔
قدسیہ علی نے اس سوال پر اظہارِ خیال کیا کہ بعض خواتین تعلقات میں اپنی ذات کو کیوں نظر انداز کر دیتی ہیں۔ بہت سی خواتین بچپن میں والدین کی محبت سے محروم رہتی ہیں، جس کی وجہ سے جب انہیں کسی بھی شکل میں محبت کی معمولی سی جھلک ملتی ہے تو وہ ہر طرح کا رویہ برداشت کرنے لگتی ہیں۔ ایسی خواتین وقتی محبت کو بھی حقیقی سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں کیونکہ وہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں۔میں خود بھی ماضی میں عدم تحفظ کے احساس سے گزری ہوں، تاہم وقت کے ساتھ میں نے اس پر قابو پانے کے لیے خود پر کام کیا اور اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔
Leave A Comment