چتُرنیٹی کا جال، نیوگریٹ گیم، پیسہ، پروپیگنڈہ اور ڈنڈہ
محترم قارئین، تاریخِ انسانی کے سیاسی اُفق پر وشنو گپت، کوٹلیہ، اور چانکیہ ( 283 سے تا 370 قبلِ مسیح) ایک ایسی عبقری شخصیت کا نام ہے جس نے سیاست، معیشت، جاسوسی اور جنگی حکمتِ عملی کے ایسے لافانی ضابطے مرتب کیے ہیں جو 2300 سو سال گزرنے کے بعد بھی اتنے ہی کارآمد اور گہرے ہیں جتنے موریہ سلطنت کے قیام کے وقت تھے۔ چندرگپت موریہ کے اُستاد اور مصلحِ اعظم کی حیثیت سے انہوں نے نند خاندان کی طاقتور سلطنت کا تختہ الٹ کر ایک وسیع تر مملکت کی بنیاد رکھی۔ چانکیہ کی شہرہ آفاق تصنیف "ارتھ شاستر" محض ایک کتاب نہیں بلکہ ریاستی بقاء، سفارت کاری، جغرافیائی بالادستی اور داخلی و خارجی امور کو چلانے کا ایک جامع اور لازوال دستور ہے۔ مغرب میں چانکیہ کو "ہندوستان کا میکیاولی" کہا جاتا ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو کوٹلیہ کا فلسفہ میکیاولی کے نظریات سے کہیں زیادہ گہرا، وسیع اور عملی نوعیت کا ہے جس میں اخلاقیات سے زیادہ مصلحتِ عامہ اور ریاست کی سلامتی کو اولیت حاصل ہے۔ریاستی مقاصد کے حصول، دشمن کو زیر کرنے یا کسی فریق کو رام کرنے کے لیے چانکیہ نے سیاست کے چار بنیادی حربے متعارف کروائے، جنہیں مجموعی طور پر "چتُرنیٹی" کہا جاتا ہے۔ یہ چاروں تدابیر کسی بھی بحران کو حل کرنے کے لیے ترتیب وار اور صورتِ حال کے عین مطابق استعمال کی جاتی ہیں۔
پہلا حربہ "سام" (فہم و فراست اور مصالحت) ہے، جو حکمتِ عملی کا پہلا اور سب سے معزز قدم ہے۔ اس سے مراد نرمی سے بات کرنا، تفہیم، دلیل، عزت اور محبت کے ذریعے سامنے والے کو قائل کرنا اور دوستی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ سفارتی اصطلاح میں اسے "سافٹ پاور" یا پرامن مذاکرات کہا جاتا ہے، جہاں جنگ و جدل کے بغیر باہمی فائدے پر اتفاق قائم کیا جاتا ہے۔
دوسرا حربہ "دام" (معاشی ترغیب اور انعام) ہے، یعنی جب محض تفہیم اور مذاکرات سے بات نہ بنے، تو چانکیہ کا یہ اصول حرکت میں آتا ہے۔ اس کا مطلب قیمت، معاشی فائدہ، مراعات یا انعام کا لالچ دے کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ موجودہ عالمی نظام میں معاشی امداد، تجارتی معاہدے، اور مالیاتی پیکجز اسی معاشی ترغیب کے جدید مظاہر ہیں۔
تیسرا حربہ "ڈھنڈ" (سزا، سختی اور جبر) ہے، یعنی جب پہلی دو تدابیر یعنی فہمائش اور لالچ ناکام ہو جائیں، تو تادیب کا یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد سختی، طاقت کے استعمال، سزا دینے یا نقصان کا خوف دلانا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاشی پابندیاں، فوجی جارحیت، سفارتی بائیکاٹ اور تادیبی کارروائیاں اسی کے دائرہ کار میں آتی ہیں تاکہ سرکش قوتوں کو قانون اور ضابطے کے تابع کیا جا سکے۔
چانکیہ کی سیاست کا چوتھا اور سب سے خطرناک حربہ "بھید" (تفرقہ اندازی اور خفیہ کاری) ہے۔ اس کا مطلب دشمن کے اندرونی راز جان کر اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا، صفوں میں پھوٹ ڈالنا اور اندرونی خلفشار کو ہوا دینا ہے۔ موجودہ دور کی ففتھ جنریشن وارفیئر، ہائبرڈ جنگ اور پراکسی نیٹ ورکس کا دارومدار مکمل طور پر اسی "بھید" کے اصول پر قائم ہے جس کے ذریعے بڑی طاقتیں براہِ راست جنگ کے بغیر حریف ممالک کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔آج کی عالمی سیاست جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اسے "نیو گریٹ گیم" (New Great Game) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ماضی میں جو گریٹ گیم وسطی ایشیاء اور برصغیر پر بالادستی کے لیے برطانوی راج اور زارِ روس کے مابین لڑی گئی تھی، آج اس کا دائرہ کار بحرِ ہند، خلیجِ فارس، آبنائے ہُرمُز اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) تک پھیل چکا ہے۔ اس نئے منظر نامے میں عالمی طاقتیں بشمول امریکہ، چین اور روس اپنے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے چانکیہ کی چتُرنیٹی کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔
چانکیہ کا یہ مشہور قول کہ "دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے" آج کی عالمی صف بندیوں کا بنیادی اصول ہے۔ امریکہ اور بھارت کا اسٹریٹجک اتحاد ہو یا چین، روس اور پاکستان کا بدلتا ہوا بلاک، یہ سب اسی کوٹلیہ فلسفے کے عکاس ہیں۔ چانکیہ نے 2300 سو سال پہلے لکھا تھا کہ "ایک کمزور بادشاہ بھی اگر حکمت سے چلے تو بڑی سلطنت کو گرا سکتا ہے"، اور یہ اصول آج بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی بقاء قائم رکھنے کا بہترین رہنماء ہے۔
چانکیہ نے حکومت چلانے کے اصولوں میں جاسوسی کے نظام کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ "ایک بادشاہ کو اپنے جاسوسوں سے زیادہ کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ریاست کی سلامتی سب سے پہلے ہے"۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی خفیہ ایجنسیاں جیسے سی آئی اے (CIA)، را (RAW)، اور آئی ایس آئی (ISI) کوٹلیہ کے جاسوسی کے نظام اور اطلاعات کی رسائی کے طریقوں کا گہرا مطالعہ کرتی ہیں۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اس وقت نیو گریٹ گیم کا مرکزِ ثقل تصور کیا جاتا ہے۔ ایک طرف جہاں پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف "بھید" اور "ڈھنڈ" کے حربے استعمال کر کے علاقائی دہشت گردی اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کو اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں "سام" اور "دام" کے ذریعے اپنے برادر اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ متوازن معاشی روابط استوار کرنے کی ضرورت ہے۔چانکیہ کا فلسفہ زندگی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ "تعلیم سب سے بہترین دوست ہے، اور تعلیم یافتہ شخص ہر جگہ عزت پاتا ہے"۔ ماضی کی غلطیوں پر ماتم کرنے کے بجائے آگے کا سوچنا اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا ہی زندہ قوموں کا شیوہ ہے۔ پاکستان کے موجودہ سماجی، معاشی اور جغرافیائی چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ہم کوٹلیہ کے ان آفاقی اصولوں کو جدید تناظر میں سمجھیں، جہاں معیشت مضبوط ہو، داخلی راز محفوظ ہوں، جاسوسی کا نظام مستحکم ہو اور سفارت کاری میں سام، دام، ڈھنڈ اور بھید کا متوازن استعمال کیا جائے تاکہ ریاست کا وقار، سلامتی اور بقا ہمیشہ برقرار رہے۔کیونکہ عالمِ کفر اپنے ماضی کے دانشوروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہی ان کے پرانے عزائم کو صرف نام تبدیل کر کے عالمِ اسلام اور اسلام کے خلاف سازشوں میں کامیابی حاصل پاتے ہیں۔ جیسے 2001ء کے بعد عالمِ کفر نے اسلام اور اسلامی ممالک کو زیرِ تسلط لانے کے لیے پہلے پیسے کے بل بوتے پر کئی ناموں سے پروگرامز جاری رکھتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کیے۔ جب پیسے کی سازش افشا ہوتی ہے تو وہ یکدم ایسے ممالک اور اشخاص کے خلاف بہانہ بنا کر پروپیگنڈے کا آغاز کر دیتے ہیں اور یوں ایسے ممالک اور اشخاص ان کے ڈنڈے (جبر) کے زیرِ اثر آتے ہی ان کی سازشوں سے زیر و زبر ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کا ایک تاریخی تسلسل ہے جو ہمیں ہمیشہ تباہی و بربادی کے بعد ہی سمجھ آتا ہے، کیونکہ ہم تعلیم، تحقیق، دانش، علم اور تاریخی و جغرافیائی حدود و علوم سے بے خبر ہیں۔