تازہ ترین

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ایران کے ساتھ ہم آہنگی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کرنے کی صورت میں اس راستے سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ایران کے مؤقف کو دہرایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’غیر واضح انتظامات، متوازی راستوں یا ایسے فیصلوں کے تحت جن میں ساحلی ریاست کے طور پر ایران کے کردار کو نظر انداز کیا جائے، آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘۔ اس معاملے پر کسی بھی انتظامی فریم ورک کی بنیاد ایران کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی شق نمبر 5 میں درج اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس اصول پر عمل نہ کیا گیا تو متعین کردہ متوازی بحری راستے معطل کیا جا سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان سفارتی سطح پر ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے معاملے پر عبوری انتظامات پر رابطے میں ہیں۔حالیہ دنوں میں باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی عمانی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں بحری امور سے متعلق تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس سے ایک روز قبل ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ افیئرز اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے بھی بحری جہازوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ مقررہ بحری راستوں سے انحراف نہ کریں۔ اتھارٹی کے مطابق غیر مجاز راستوں سے سفر کرنے والے جہازوں کو محفوظ آمدورفت، انشورنس تحفظ یا اس سے متعلق ذمہ داریوں کی کوئی ضمانت حاصل نہیں ہوگی۔

برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے جمعے کے روز عمان کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں ایک کارگو جہاز پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ اس واقعے کے بعد اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے خلیجی پانیوں میں جہازوں کی رہنمائی کا آپریشن عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement