محرم الحرام: لاہور میں 32 علماء پر تقاریر، 26 پر داخلے کی پابندی عائد
محرم الحرام کے دوران امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سخت انتظامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد علماء پر تقاریر اور شہر میں داخلے سے متعلق پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔مختلف مسالک کے 32 علماء کرام پر تقاریر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ 26 علماء کرام کے لاہور میں داخلے اور رہائش پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔یہ پابندیاں محرم الحرام اور صفر کے مہینوں تک نافذ العمل رہیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی جانب سے شعلہ بیان اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے خدشے والے خطیبوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں مجموعی طور پر 58 علماء کے نام شامل ہیں۔ہ یہ اقدامات امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔