تازہ ترین

عالمی تیل ذخائر تیزی سے کم ہونے کے باعث تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو عالمی معیشت کو نئے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔امریکی آئل کمپنی ایکسن موبل کے سینئر نائب صدر  نے خبردار کیا ہے کہ اگر ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 سے 160 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی محدود صورتحال کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اگرچہ اس دوران مختلف ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کیے ہیں، تاہم یہ سہارا زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی  ے بھی خبردار کیا ہے کہ موسم گرما میں ایندھن کی طلب بڑھنے کے ساتھ ذخائر مزید کم ہو سکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

 سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی، شرح سود اور عالمی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو دنیا بھر میں صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے اور تیل کی ترسیل بحال ہونے تک عالمی توانائی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے گی۔

 صورتحال معمول پر نہ آئی تو پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے ، پاکستان میں تیل کی قیمتیں 450 سے 500 تک فی لیٹر پہنچ سکتی ہیں ۔

 

Leave A Comment

Advertisement