اسرائیلی حکام نے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کا ایندھن بننے کے قریب پہچ گیا، اسرائیلی حکام نے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں جبکہ سیاسی اور عسکری قیادت نے اجلاس میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران میں اب بھی کچھ اہداف موجود ہیں جنہیں وہ نشانہ بنانا چاہتے ہیں، اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اس معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ فوری حملے کے بجائے ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور محاصرہ جاری رکھا جائے، تاکہ ایران کی معیشت کو اس حد تک کمزور کیا جائے کہ وہاں عوامی سطح پر حکومت کے خلاف ردعمل پیدا ہو تاہم سیاسی قیادت کا مؤقف مختلف ہے۔بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی اور ذاتی دونوں اعتبار سے ملک کو مسلسل حالتِ جنگ میں رکھنا چاہتے ہیں، اسرائیل میں مجموعی تاثر ہے کہ سوال یہ نہیں ایران پر حملہ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ حملہ کب ہوگا، یہ بھی زیر بحث ہے کہ آیا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ممکنہ کارروائی کی اجازت دیں گے یا نہیں؟۔