کینیا: پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 4 افراد ہلاک، 30 زخمی
کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج میں چار افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔یہ ہڑتال حکام کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتیں 20 فیصد تک ریکارڈ سطح تک بڑھانے کے خلاف کی گئی۔
وزیر داخلہ کِپچومبا مرکو مین کے مطابق پرتشدد احتجاج کے الزام میں 348 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بند کیں اور ٹائر بھی جلائے۔نیروبی کے مختلف حصوں اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جنہوں نے جلتے ہوئے ٹائروں اور رکاوٹوں کے ذریعے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔ٹراسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے، جبکہ دارالحکومت نیروبی میں اہم سڑکیں بڑی حد تک خالی رہیں، کاروبار میں مندی رہی جبکہ سکولوں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایات کی۔
کینیا، دیگر کئی افریقی ممالک کی طرح، خلیج سے ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تنازع کے باعث یہ ملک ایندھن کی سپلائی سے متاثر ہوا۔