ایران کے سعودی عرب کی کئی انرجی تنصیبات پر حملے
ران نے سعودی عرب کے مشرقی صنعتی شہر الجبیل میں واقع اہم پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کے اسالوئیہ میں قائم پیٹروکیمیکل تنصیبات پر ہونے والے مبینہ حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
الجبیل، جو سعودی عرب کے ڈاؤن اسٹریم توانائی شعبے کا مرکزی مرکز ہے، کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ شہر سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو اور اس کی ذیلی کمپنی سابک کے علاوہ مغربی توانائی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے مشترکہ منصوبوں کا مرکز ہے۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے سدارا کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو آرامکو اور ڈاؤ انکارپوریٹڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے، جبکہ الجبیل میں ایگزون موبل سے وابستہ تنصیبات پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب نے قریبی علاقے جُعیمہ میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سعودی عرب میں کون سی مخصوص تنصیبات متاثر ہوئیں، تاہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں الجبیل کی سمت سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے سات بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ان کے ملبے کے کچھ حصے توانائی تنصیبات کے قریب گرے۔ سعودی آرامکو نے ان حملوں پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ سعودی حکام اور سابک کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر اس کے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جسے اس تنازع میں ممکنہ طور پر سب سے بڑی شدت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں اسی نوعیت کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Leave A Comment