واشنگٹن اور تہران میں کشیدگی کم کرنے کےلیے ابتدائی خاکہ تیار
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے ابتدائی طور پر خاکہ تیار کرلیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی میں کمی لانے کے لیےباضابطہ مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تنازعات کے حل کے لیے ایک ٹھوس سفارتی فریم ورک تشکیل دینا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ فریقین کے مابین اعتماد سازی پیدا کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے کھولنا ایک اہم قدم ہے، جسے ماہرین سفارتی عمل کی شروعات قرار دے رہے ہیں۔مستقبل کے مذاکرات میں یورینیم کی افزودگی، ذخائر کا انتظام اور ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے حساس معاملات سر فہرست ہوں گے۔ یہ وہی پیچیدہ مسائل ہیں جن پر ماضی میں دونوں طاقتوں کے درمیان سخت اختلافات رہے ہیں اور اب بھی فریقین اپنے مؤقف پر ڈٹے ہیں۔
ایران نے مذاکرات کی میز پر اپنی 10 اہم شرائط پیش کی ہیں، جن میں صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ لبنان سمیت خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ علاقائی مسائل کے پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کو ایران کے تحفظات کا احترام کرنا ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین آئندہ مذاکرات بھی پاکستان میں منعقد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو وہ دستخطی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے بذات خود اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
اس پیش رفت کو عالمی سطح پر انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خلیج میں استحکام پوری دنیا کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ اگرچہ یہ عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کا ایک میز پر آنا خطے میں امن کی نئی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
Leave A Comment