طالبان فیصلہ کریں کہ انہیں دہشت گردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔ گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان سے اس سے پہلے بھی براہ راست، دوست ممالک کے ذریعے بات چیت ہوئی جس میں صرف اسی بات کی گارنٹی مانگی گئی کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، اب افغان طالبان کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ٹی ٹی پی کو بچانا ہے یا پھر افغانستان کو۔ کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کرنے والے اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس حوالے سے کیے جانے والے افغان طالبان اور دیگر کے دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ثبوت ہیں۔افغان طالبان نے منشیات کے عادی لوگوں کو اکھٹا کر کے رکھا ہے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ سویلین آبادی پر حملے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آدھے سے زیادہ خوارج اور طالبان سویلین کپڑوں میں ہوتے ہیں جس وجہ سے باتیں بنائی جاتی ہیں۔
ہم نے افغانستان میں 81 فضائی حملے کر کے اُن کی اہم تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، ایک بار یقین دہانی کروادی جائے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی اور اگر ہوئی تو پھر کارروائی ہوگی تو آپریشن غضب للحق رُک سکتا ہے۔ سرحد بند ہونے سے کچھ لوگوں کا نقصان ہورہا ہے مگر اس کے ذریعے اسمگلنگ بھی بند ہوئی ہے جبکہ آپریشن غضب للحق کیوجہ سے اب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بھی کم ہورہے ہیں۔ آپریشن غضب للحق صرف دہشت گردوں کیخلاف ہے اور ٹی ٹی پی سمیت خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، افغانستان کو دہشت گردوں کا مرکز بنادیا گیا تھا مگر پاکستان کو اس دروازے کو دھکا دے کر بند کردیا۔