چین نے امریکا اور تائیوان کے درمیان تجارتی معاہدہ علاقے کی فروخت قرار دیدیا
چین نے تائیوان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پرتنقید کرتے ہوئے اسے علاقے کی فروخت کا معاہدہ قراردے دیا ہے۔تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) پر عوام کی فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق چین کی سٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان پینگ چِنگ اِن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ تجارتی مذاکرات امریکا کے شدید دباؤ میں کئے گئے، جہاں امریکا نے ٹیرف کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تائیوان کو امریکا میں اپنی سرمایہ کاری نمایاں طور پر بڑھانے پر مجبور کیا، جس سے تائیوان کی مسابقتی صنعتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو ’’اقتصادی غنڈہ گردی کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے‘‘ کے مترادف قرار دیا، معاہدے کے تحت امریکا نے تائیوان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کی شرح کم کرکے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے بدلے میں تائیوان نے 250 ارب ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کرنے، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے کریڈٹ گارنٹیز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اگرچہ ڈی پی پی کے عہدیدار اس معاہدے کو بہترین ڈیل قرار دے رہے ہیں، تاہم پینگ چِنگ اِن نے نشاندہی کی کہ تائیوان مجموعی طور پر 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پابند ہو رہا ہے اور اپنے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے 40 فیصد حصے کو امریکا منتقل کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔