کشمیر کے ٹیپ بال کرکٹ سے پی ایس ایل کی بلندیوں تک: صفیان مقیم کی کامیابی کی کہانی
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ اور بہترین بولر کا اعزاز حاصل کرنے والے صفیان مقیم کی کہانی محنت، صبر اور عزم کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ کشمیر کے ایک خوبصورت مگر وسائل سے محروم علاقے بیتھک بلوچ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے نہایت مشکل حالات کے باوجود کرکٹ کے میدان میں اپنی شناخت بنائی۔
صفیان مقیم نے اپنے کیریئر کا آغاز ٹیپ بال کرکٹ سے کیا، جہاں وہ ایک فاسٹ بولر کے طور پر کھیلا کرتے تھے۔ کشمیر میں پیشہ ورانہ کرکٹ کے مواقع نہ ہونے کے باعث انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے راولپنڈی منتقل ہونا پڑا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں کوچز کی رہنمائی میں انہوں نے اسپن بولنگ شروع کی اور اپنی اصل پہچان بنائی۔مسلسل محنت اور لگن کے باعث صفیان نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں جگہ بنائی اور 2023 کے اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں پاکستان اے کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔فائنل میں بھارت اے کے خلاف تین اہم وکٹیں حاصل کر کے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اس کے بعد انہیں ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع بھی ملا، تاہم وہ تاحال ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پی ایس ایل 2026 صوفیان کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ پشاور زلمی کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 22 وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان کی مسلسل کارکردگی نے انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ اور بہترین بولر کے اعزازات دلوائے، جو ٹی20 فارمیٹ میں کسی بھی بولر کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں بھی صفیان نے عمدہ بولنگ کی، جبکہ آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی نے چار وکٹیں لینے اور نصف سنچری اسکور کرنے کی بدولت نمایاں کارکردگی دکھائی۔تاہم پورے ٹورنامنٹ میں صوفیان کی مستقل مزاجی ہی وہ عنصر تھا جس نے پشاور زلمی کو چیمپئن بنایا۔ کپتان بابر اعظم اور کوسل مینڈس کی بیٹنگ بھی ٹیم کی کامیابی میں اہم رہی۔ پریزنٹیشن تقریب کے دوران صفیان مقیم جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کو اللہ کی مرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ خاموشی سے محنت پر یقین رکھا، اور آج اسی محنت کا صلہ انہیں ملا ہے۔
ایک منفرد پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ صفیان نے اپنی پی ایس ایل ٹرافی پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام کی۔ راولپنڈی منتقل ہونے کے بعد انہیں خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) گراؤنڈ میں ٹریننگ کا موقع ملا، جہاں ان کے والد بھی کام کرتے ہیں۔ اسی ماحول نے ان کی کرکٹ کو مزید نکھارا۔ دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک اکیڈمی میچ میں صفیان کو قومی آل راؤنڈر شاداب خان کو بولنگ کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے شاداب کو اپنی اسپن سے حیران کر دیا اور کلین بولڈ کر دیا، جس کے بعد شاداب نے ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنی ٹیم میں موقع دینے کا وعدہ کیا۔ اگرچہ صفیان کو اب تک پاکستان کی قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہیں مل سکی، تاہم پی ایس ایل میں ان کی شاندار کارکردگی کے بعد ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ جلد ٹیم کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر بائیں ہاتھ کے اسپنرز میں ان کا نام اب مضبوطی سے سامنے آ رہا ہے۔
صفیان مقیم کی یہ کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ اگر انسان اپنے خوابوں پر یقین رکھے اور مسلسل محنت کرتا رہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پی ایس ایل کی اس کامیابی کو بین الاقوامی کرکٹ میں بھی برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ایک بڑے اسٹار بن پاتے ہیں یا نہیں۔
Leave A Comment