تازہ ترین

لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کمسن بچوں کو گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا، بچوں کے والد، والدہ اور چچا کو حراست میں لے لیا گیا۔پولیس کے مطابق اچھرہ کے علاقے میں 2 بچیوں اور ایک بچے کی لاشیں ملی ہیں، بچوں کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، ون فائیو پر اطلاع ملی، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔  بچوں کی عمریں  1 سے 9 سال کے درمیان ہیں، والدین گھر کو باہر سے تالا لگا کر میڈیکل سٹور پر ادویات لینے کے لیے گئے، جب واپس گھر آئے تو بچوں کی گردنیں کٹی ہوئی تھیں۔مقتول بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومتہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، ریسکیو ٹیموں نے کمسن بچوں کی میتوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کر دیا ہے۔ 

ایس ایس پی نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔سینئر افسران، فرانزک ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

بعدازاں آئی جی پنجاب نے اچھرہ میں تہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی، آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو قتل میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جلد گرفتار کر لیں گے۔

 پولیس نے بچوں کے والد رمضان اور والدہ ردا کو متضاد بیانات دینے پر حراست میں لے لیا، رمضان اور ردا کی شادی نو سال قبل ہوئی تھی، پولیس نے بچوں کے چچا کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔والد رمضان نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ گھر کو تالا لگا کر باہر گیا ، جب واپس ایا تو بچوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں تین کمسن بچوں کے لرزہ خیز قتل سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اہل علاقہ نے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سفاک قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ 

خیال رہے کہ ابھی کل ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جرائم بڑھنے پر پولیس افسروں کی سرزنش کی تھی، اجلاس کے دوسرے روز ہی لاہور میں دل دہلا دینے والا واقعہ ہو گیا۔

اچھرہ میں 3 بچوں کا قتل، پولیس کی تفتیش جاری، فوٹیج حاصل کر لی گئی

اچھرہ میں 3 بچوں کے قتل کی واردات، پولیس نے بچوں کے چچا اور والدین کی نقل و حرکت کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی۔کون کس وقت گھر سے نکلا اور واپس آیا، پولیس کی جانب سے فوٹیجز کا تجزیہ جاری ہے، ویڈیو کے مطابق بچوں کا چچا والدہ کے جانے کے بعد گھر سے نکلا، چچا کے نکلنے کے کچھ دیر بعد والدہ گھر آئی۔بچوں کے چچا، والدین اور دادی کو حراست میں لے کر پولیس کی پوچھ گچھ جاری ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ سے متعلق حقائق جلد سامنے لائینگے۔ زیرحراست افراد کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے، لاہور:بچوں کو قتل کرنے کے بعد کسی نے کرائم سین کو بدلنے کی کوشش کی، بچوں کو قتل کر کے واقعہ کو کچھ اور رنگ دینے کے شواہد ملے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ماں نے بیان دیا ہے کہ طبیعت خراب ہوئی، شوہر کے ساتھ دوا لینے گئی، واپسی پر بچے کمرے میں مردہ حالت میں ملے۔بچوں کی والدہ نے اعتراف کیا کہ والدین نے گھر کو خود باہر سے تالا لگا کر چھوڑا، واپسی پر خود ہی تالا کھولا، 20 سے 25 منٹ بعد گھر پہنچنے پر بچوں کی لاشیں دیکھ کر کہرام مچ گیا، شور سن کر اہل علاقہ جمع ہوئے، پولیس کو فوری اطلاع دے دی گئی۔

پولیس کے مطابق بچوں کے چچا اور دادی گھر کے دوسرے حصے میں رہائش پذیر مگر واقعے کے وقت موجود نہ تھے، پولیس نے ماں، باپ، چچا اور دادی کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہوئی ہے۔کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہو سکا، پولیس کو مدعی کے تعین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پولیس کو تاحال بچوں کے قاتلوں کا سراغ یو کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔

 

حکام کے مطابق بچوں کی عمریں 1 سے 9 سال کے درمیان ہیں، ابتدائی تفتیش کے مطابق والدین گھر کو باہر سے تالا لگا کر میڈیکل سٹور پر ادویات لینے کے لیے گئے، جب واپس گھر آئے تو بچوں کی گردنیں کٹی ہوئی تھیں۔

مقتول بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومتہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، ریسکیو ٹیموں نے کمسن بچوں کی میتوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا اچھرہ میں3 معصوم بچوں کے قتل پراظہار افسوس, ذمہ دارکڑی سزا سے نہیں بچ سکیں گے: مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اچھرہ میں 3 معصوم بچوں کے قتل پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اور 3بچوں کے قتل کے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ نے معصوم بچوں کے قاتل کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اورمقتول بچوں کے اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور صبر کی دعا کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ بچوں کے سفاکانہ قتل کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ معصوم بچوں کے قتل کہ ذمہ دار قانونی کارروائی اور کڑی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔