لاہور ہائیکورٹ شہریوں کو بلاوجہ روکنے پر ٹریفک پولیس پر سخت برہم
لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کو بلاوجہ روکنے پر ٹریفک پولیس کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کہ قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو غیر ضروری طور پر نہ روکا جائے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو بلاوجہ روکنے سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ ٹریفک پولیس کے اہلکار سڑکوں پر جتھوں کی صورت میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ اگر کسی شہری کو روکا جائے تو اسے فوری طور پر اس کا جرم بتایا جانا چاہیے، کیونکہ پولیس قوانین میں یہ امر واضح طور پر درج ہے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سڑکوں کے درمیان موٹر سائیکل سواروں کو روک کر گفتگو کی جاتی ہے جس سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شہری یا موٹر سائیکل سوار قوانین کی مکمل پاسداری کر رہا ہو تو اسے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت مزید ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر شہریوں کو روکنے سے ٹریفک کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رش کے اوقات میں ٹریفک پولیس اہلکار جرمانے جمع کرنے کے لیے شہریوں کو روکتے ہیں جس سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمانہ وصولی کے لیے پورے ٹریفک نظام کو مفلوج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔جسٹس شاہد کریم نے شہر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی برہمی ظاہر کی اور حکم دیا کہ فوری طور پر ایسی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ سموگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔سماعت کے دوران دیگر ماحولیاتی امور بھی زیر بحث آئے۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ گوجرانوالہ ییلو لائن میٹرو منصوبے کے لیے تاحال ماحولیاتی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ جسٹس شاہد کریم نے ہدایت دی کہ نئے درخت بڑے سائز میں لگائے جائیں اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن سے متعلق قانون سازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام منصوبوں پر ان قوانین کا اطلاق ضروری ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ہر ترقیاتی منصوبے میں موجود درختوں کو ٹیگ کیا جائے تاکہ ان کا ریکارڈ محفوظ رہے۔جسٹس شاہد کریم نے واسا کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنے واجبات کی وصولی میں ناکام نظر آتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا واسا نے واجبات کی وصولی کے لیے عدالت یا ماحولیاتی کمیشن سے کوئی معاونت طلب کی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ نئے قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔عدالت نے محکمہ ماحولیات اور پی ایچ اے لاہور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ متوسط طبقے کے علاقوں میں پارکس کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہاں کے بچوں کو بھی تفریحی سہولیات میسر آ سکیں۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت، ممبر ماحولیاتی کمیشن، ایل ڈی اے، پی ایچ اے کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی۔