مشن امپاسبل
(نصیر سلیم)
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ملک کی سول اور عسکری قیادت نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے دن رات ایک کر دیے۔
گزشتہ روز پاکستانی قیادت کے لیے انتہائی مشکل اور اعصاب شکن تھا کیونکہ ایک طرف جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے اور دوسری طرف وقت تیزی سے نکلا جا رہا تھا۔اس نازک صورتحال میں پاکستان نے بیک وقت امریکا، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطوں کا جال بچھایا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ اس عمل کے دوران چین اور روس جیسی عالمی قوتوں کے ساتھ دن میں تین تین مرتبہ رابطے کیے گئے تاکہ ایک مضبوط عالمی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
اس مشن کو مکمل کرنے کے لیے دو اہم مراحل طے کیے گئے، جس میں پہلا مرحلہ منگل کی صبح سے شروع ہو کر رات دس بجے تک جاری رہا، جبکہ دوسرا مرحلہ شام چھ بجے سے شروع ہوا جو رات ساڑھے نو بجے تک چلتا رہا۔تاہم سب سے اہم اور فیصلہ کن رابطے رات پونے گیارہ بجے شروع ہوئے جو مسلسل اگلی صبح چار بجے تک جاری رہے۔ان تمام رابطوں میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر براہِ راست خود موجود تھے اور مختلف ممالک کی قیادت سے بات چیت کر رہے تھے۔اس پورے مشن میں وزارتِ خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں نے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور تمام معاملات کو انتہائی ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
پاکستانی قیادت کی ان مسلسل کاوشوں کا مقصد صرف ایک تھا کہ کسی بھی طرح جنگ کی آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ یہ ایک ایسا مشن تھا جس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہر قدم بہت پھونک پھونک کر رکھا گیا۔آخر کار پاکستان کی یہ مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں اور فریقین کے جنگ بندی پر آمادہ ہونے پر دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ یہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اتنی بڑی طاقتیں پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کر رہی ہیں۔