تازہ ترین

لاہور میں بسنت کے تہوار کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، بسنت کے موقع پر پتنگ اور گُڈے کے سائز، ڈور کی نوعیت اور استعمال کی تفصیلات طے کی جاچکی ہیں۔ پتنگ کی لمبائی 30 انچ اور چوڑائی 34 انچ سے زیادہ نہیں ہوگی جبکہ گُڈے کی لمبائی 34 انچ اور چوڑائی 40 انچ سے تجاوز نہیں کر سکے گی۔ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے بنائی جائے گی اور اس میں نو سے زائد تاریں استعمال نہیں ہوں گی۔ڈور کے مانجھے کے لیے گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کی اجازت ہے۔ گُڈے کے روایتی سائز میں پونا تاوا، تاوا اور ڈیڑھ تاوا شامل ہیں، جو بالترتیب 350 روپے، 600 روپے اور 800 روپے تک میں فروخت ہو رہی ہیں۔ ڈور کا پنا 10 سے 12 ہزار روپے میں دستیاب ہے اور حکومت کے مطابق ہر پنے میں دو ہزار میٹر ڈور ہوگی، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے۔اب تک 34 کروڑ سے زائد پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہو چکی ہیں۔

شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ بسنت محفوظ انداز میں منائی جا سکے۔ سیفٹی انٹینا نہ لگوانے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب کے تمام ٹیچنگ اسپتال بسنت کے موقع پر 6 اور 7 فروری کو کھلے رہیں گے اور ایمرجنسی سروسز، آؤٹ ڈور پیشنٹ اور انڈور ڈیپارٹمنٹس فعال رہیں گے۔وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین کی زیر صدارت اجلاس میں تمام پراجیکٹس سائٹس کو نو گو ایریا قرار دیا گیا ہے اور صرف متعلقہ اہلکاروں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔صوبائی وزیر کی ہدایت پر سائٹس کی مکمل کورنگ اور لائٹس کی تنصیب کی جائے گی جبکہ واسا کے ترقیاتی کام بسنت کے دوران روک دیے جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ نے شہر کو بسنت تھیم سے سجایا ہے اور خطرناک چھتوں کی انسپیکشن اور نوٹسز کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

لیکن سنجیدہ حلقوں کا سوال یہ ہے کہ کیا اگر اس کے بعد بھی کوئی حا دثہ ہوا یا کو ئی انسانی جان گئی تو ارباب اختیار اور اس خونی تہوار کی اجازت دینے والوں پر مقدمہ درج کیا جائے گا اور ان کو قصوروار ٹھرایا جا ئے گا ؟