جب تک طالبان دہشت گرد گروہوں کی حمایت ترک نہیں کرتے، آپریشن جاری رہے گا: سینئر سیکیورٹی عہدیدار
سینئر پاکستانی سیکیورٹی عہدیدارنے کہا ہے کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری بند کر کے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم کرے، تبھی پاکستان کے آپریشن ختم ہوں گے۔
سینئر پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار نے آپریشن غضب للحق سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ہیں۔ افغانستان میں جاری آپریشن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔انھوں نے کہا کہ ہم کسی جلد بازی میں نہیں ہیں۔ پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا، افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔
افغان طالبان حکومت مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کی قیادت کا اصل مقصد مفادات اور مالی فوائد ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن غضب للحق کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے۔ ہم اس حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اُن کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہ جائز اہداف ہیں جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ کے تناظر میں self ڈیفنس کے زمرے میں آتے ہیں، افغان طالبان حکومت اور اُن کے بھارتی سرپرست اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔
Leave A Comment